فلوریڈا طیارہ حادثہ: این ٹی ایس بی کی نئی تفصیلات سامنے

0

امریکہ کی نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ (این ٹی ایس بی) نے فلوریڈا میں پیش آنے والے لیرجیٹ 60 طیارہ حادثے کی تحقیقات میں نئی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ تفتیش کاروں کے مطابق طیارہ زمین سے ٹکرانے سے پہلے ہی ٹوٹنا شروع ہو گیا تھا، اور حادثے کے وقت علاقے میں شدید بارش اور طوفانی موسم موجود تھا۔ یہ حادثہ اتوار کی دوپہر پام بیچ کاؤنٹی میں پیش آیا تھا جس میں سوار تمام 9 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

حادثہ کیسے پیش آیا؟

نجی طیارہ لیرجیٹ 60 آسٹن، ٹیکساس سے بہاماس کے نارتھ ایلیوتھیرا جا رہا تھا۔ این ٹی ایس بی کے بورڈ رکن ٹام چیپمین نے پیر کو بریفنگ میں بتایا کہ پائلٹوں نے 35 ہزار فٹ کی بلندی پر برف جمنے اور درمیانے درجے کی ٹربولنس کی اطلاع دی تھی۔ اس کے بعد طیارہ تیزی سے نیچے آنا شروع ہوا، پہلے 10 ہزار فٹ فی منٹ کی رفتار سے اور پھر یہ رفتار 22 ہزار فٹ فی منٹ تک پہنچ گئی۔ فلائٹ ریڈار 24 کے اعداد کے مطابق ایک موقع پر نیچے آنے کی رفتار 32 ہزار فٹ فی منٹ سے بھی تجاوز کر گئی۔

طیارہ گرین ایکرز کے علاقے میں ایک سڑک کے قریب گرا اور آگ کے گولے میں تبدیل ہو گیا۔ حادثے کی جگہ سڑک کے کنارے ایک بڑا گڑھا بن گیا جو شدید طوفان کی وجہ سے جزوی طور پر پانی سے بھر گیا تھا۔ چیپمین نے کہا کہ کچھ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ طیارہ زمین سے ٹکرانے سے پہلے ہی ٹوٹ رہا تھا، اس لیے اس کے پرزے اصل حادثے کی جگہ سے کچھ فاصلے پر بھی مل سکتے ہیں۔

موسم تحقیقات کا بڑا مرکز

چیپمین نے واضح کیا کہ حادثے کے وقت موسم کی صورتحال تحقیقات کا ایک بڑا مرکز ہے۔ پائلٹوں نے ایئر ٹریفک کنٹرول کو بتایا تھا کہ وہ برف سے نمٹ رہے ہیں اور انہوں نے بلندی بڑھانے کی درخواست کی تھی، لیکن اس کے فوراً بعد طیارہ تیزی سے نیچے آنے لگا اور کاک پٹ سے اوور اسپیڈ کی اطلاع دی گئی۔ قریبی پام بیچ ہوائی اڈے پر حادثے کے وقت تیز ہوائیں، بارش اور کم بادل ریکارڈ کیے گئے تھے۔

تفتیش کار یہ بھی جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا طیارے کا افقی اسٹیبلائزر حادثے سے پہلے ہی الگ ہو گیا تھا، جیسا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی کچھ ویڈیوز سے اشارہ ملتا ہے۔ این ٹی ایس بی کے تفتیش کار ٹم مونویل نے بتایا کہ حادثے کی جگہ کے قریب گاڑی چلانے والے ایک شخص کو بھی ٹانگ میں چوٹ آئی تھی۔

ہلاک ہونے والے کون تھے؟

حکام نے تاحال ہلاک ہونے والوں کی سرکاری شناخت جاری نہیں کی ہے اور کہا ہے کہ اس کے لیے جینیاتی تجزیے کی ضرورت ہوگی، تاہم اہل خانہ کی جانب سے جاری بیان اور امریکی میڈیا کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ٹیکنالوجی کاروباری ایڈم رابنسن، ان کی اہلیہ ہیلن شارپ اور ان کے 4 اور 2 سالہ دو بچے شامل تھے۔ بچوں کی دیکھ بھال کرنے والی انیتا ماریا سیٹینا، 20 سالہ کو پائلٹ نتھالیا گیڈیلہا فلگیراس اور دو دیگر مسافر ریچل ریڈ اور چارمی فہر بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔

نتھالیا فلگیراس نے صرف 17 سال کی عمر میں پائلٹ کا لائسنس حاصل کیا تھا، جو ڈرائیونگ لائسنس سے بھی پہلے تھا۔ ان کی والدہ نے امریکی میڈیا کو بتایا کہ وہ ایک باصلاحیت نوجوان پائلٹ تھیں۔ طیارہ 2004 میں سروس میں آیا تھا اور 2018 میں اس کی تزئین و آرائش کی گئی تھی۔ یہ طیارہ ارورا ایوی ایشن کی جانب سے اپر جیٹس کے نام سے چلایا جا رہا تھا۔

تحقیقات میں آگے کیا ہوگا؟

این ٹی ایس بی نے کہا ہے کہ حادثے کی حتمی وجہ کا تعین ابھی نہیں ہوا ہے اور تمام امکانات زیر غور ہیں۔ کاک پٹ وائس ریکارڈر کے بارے میں بھی غیر یقینی صورتحال ہے، کیونکہ دیکھ بھال کے ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ طیارے میں پہلے ایک ریکارڈر نصب تھا، لیکن تفتیش کاروں کو معلوم نہیں کہ حادثے کے وقت وہ طیارے میں موجود تھا یا نہیں اور اسے بازیاب کیا جا سکے گا یا نہیں۔ عام طور پر این ٹی ایس بی کی ابتدائی رپورٹ تقریباً 30 دن میں سامنے آتی ہے۔

امریکی وزیر ٹرانسپورٹ شان ڈفی نے اس حادثے کو افسوسناک قرار دیا تھا۔ یہ 2026 میں امریکہ کا دوسرا مہلک ترین فضائی حادثہ بتایا جاتا ہے۔ تحقیقات مکمل ہونے تک طیارے کے ملبے، موسمی ریکارڈ اور ایئر ٹریفک آڈیو کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔

اس سے پہلے اس حادثے کی ابتدائی خبر پڑھیں: فلوریڈا طیارہ حادثہ: 9 افراد ہلاک (https://niazitvnews.com/?p=3206) اور مزید عالمی خبر: یوکرین پر رات بھر بڑا حملہ (https://niazitvnews.com/?p=3493)۔

ماخذ: رائٹرز، این ٹی ایس بی بریفنگ، ایکسپریس ٹریبیون اور ملے میل، 3 نومبر 2026۔ نوٹ: ہلاک شدگان کے نام اہل خانہ کے بیان اور میڈیا رپورٹس کے حوالے سے دیے گئے ہیں، سرکاری شناخت تاحال جینیاتی تجزیے کی منتظر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *