بلوچستان سے 100 سے زائد اسکالرز کا انخلا

0

بلوچستان کے گورنر جعفر خان مندوخیل نے انکشاف کیا ہے کہ پروفیسرز اور پی ایچ ڈی اسکالرز کی مستقل تقرری پر پابندی کے باعث صوبے سے 100 سے زائد اسکالرز جا چکے ہیں۔ گورنر نے اس صورتحال کو صوبے کے اعلیٰ تعلیمی نظام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے اسکالرز کو روکنے کے لیے جامع حکمت عملی بنانے پر زور دیا ہے۔ یہ بات انہوں نے منگل 3 نومبر 2026 کو خضدار میں بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (بی یو ای ٹی) کی سینیٹ کے تیسرے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔

گورنر کا انتباہ

گورنر مندوخیل نے کہا کہ صوبے میں برین ڈرین کا سلسلہ بڑھتا جا رہا ہے، اور اگر اسے نہ روکا گیا تو اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کو شدید نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ پی ایچ ڈی اسکالرز اور سینئر پروفیسرز کو برقرار رکھنے کے لیے ایک جامع اور پرکشش حکمت عملی کی ضرورت ہے، تاکہ اہل محققین اور ماہرین تعلیم سرکاری جامعات میں آنے کی طرف راغب ہوں۔

انہوں نے کہا کہ تمام سرکاری جامعات میں معیاری تعلیم اور سازگار تعلیمی ماحول کے لیے برین ڈرین کے مسئلے سے نمٹنا اور تحقیق و تعلیمی صلاحیت کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔ اس سے جامعات کی کارکردگی بہتر ہوگی اور طلبہ کو جدید علم اور تحقیقی مہارتوں سے آراستہ کرنے میں مدد ملے گی۔

اجلاس میں کون شریک ہوا؟

سینیٹ کے اجلاس میں بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس نجم الدین مینگل، اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری، صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی، سیکریٹری ہائر ایجوکیشن ہاشم خان غلزئی، وائس چانسلر پروفیسر مقصود احمد، پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مشتاق احمد شاہ، رجسٹرار انجینئر لیاقت لہڑی اور دیگر سینیٹ ارکان شریک ہوئے۔

گورنر نے وائس چانسلر پروفیسر مقصود احمد اور ان کی ٹیم کی کوششوں کو سراہا، تاہم انہوں نے کہا کہ صوبے میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو بہتر بنانے کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

نئی جامعات اور کیمپس کا جائزہ

گورنر مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان میں نئی جامعات اور کیمپس کا قیام مقامی ضروریات اور زمینی حقائق کی بنیاد پر ہوگا، نہ کہ ذاتی ترجیحات پر۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ کیمپس کی افادیت کا مکمل جائزہ لیا جائے، اور جہاں ضرورت ہو وہاں ان کے جاری رکھنے، انضمام یا بندش کے بارے میں پالیسی فیصلے کیے جائیں۔

انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے شعبے کے چیلنجز کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ بعض جدید مضامین میں سینئر اساتذہ کی شدید کمی ہے، جبکہ بعض روایتی شعبوں میں طلبہ کی تعداد کے مقابلے میں عملہ زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس عدم توازن کو مؤثر انسانی وسائل کی منصوبہ بندی کے ذریعے دور کرنا ہوگا۔

آگے کا لائحہ عمل

گورنر نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے درست پالیسی سازی، وسائل کا دانشمندانہ استعمال اور تعلیمی و تحقیقی معیار میں مسلسل بہتری ضروری ہے۔ سینیٹ ارکان کی سفارشات اور تجاویز پر تفصیلی غور کے بعد یونیورسٹی کی تعلیمی اور انتظامی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے کئی اہم فیصلے بھی کیے گئے۔

بلوچستان کے تعلیمی چیلنجز اس سے پہلے بھی خبروں میں رہے ہیں۔ صوبے میں پولیو مہم اور تعلیمی اداروں کی صورتحال پر ہماری یہ خبریں بھی پڑھیں: بلوچستان میں پولیو مہم، 22 لاکھ بچوں کو قطرے اور بلوچستان میں لاپتہ طلبہ کا معاملہ۔

ذرائع: اردو پوائنٹ / اے پی پی (3 نومبر 2026) اور ڈیلی 6 اے ایم کی رپورٹس۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *