اقوام متحدہ آج پاکستان کے حقوق کا جائزہ لے گا
اقوام متحدہ کی ایک کمیٹی آج بدھ کو جنیوا میں پاکستان کے معاشی، سماجی اور ثقافتی حقوق کے نفاذ کا جائزہ لے گی۔ یہ جائزہ بین الاقوامی معاہدے برائے معاشی، سماجی اور ثقافتی حقوق (آئی سی ای ایس سی آر) کے تحت پاکستان کی دوسری متواتر رپورٹ پر ہوگا، اور اس میں خوراک، رہائش، تعلیم، صحت، سماجی تحفظ، پانی اور صفائی جیسے حقوق پر عمل درآمد کا جائزہ لیا جائے گا۔
جائزہ کون لے گا اور پاکستان کی نمائندگی کون کرے گا
یہ جائزہ کمیٹی برائے معاشی، سماجی اور ثقافتی حقوق (سی ای ایس سی آر) کے آٹھویں اجلاس میں ہوگا۔ یہ کمیٹی 18 آزاد ماہرین پر مشتمل ہے جو اس بات کی نگرانی کرتی ہے کہ معاہدے پر دستخط کرنے والے ممالک اس کی شقوں پر کس حد تک عمل کر رہے ہیں۔ کمیٹی کا مقصد رکن ممالک سے تعمیری مکالمہ کرنا، یہ جانچنا کہ معاہدے کے اصولوں کا اطلاق ہو رہا ہے یا نہیں، اور نفاذ کو بہتر بنانے کے طریقے تجویز کرنا ہے۔
پاکستانی وفد کی قیادت وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک کریں گے۔ 11 رکنی وفد میں پاکستان کے مستقل مندوب طاہر اندرابی، وزارت انسانی حقوق کے سیکریٹری اور ٹرانس جینڈر حقوق کی مشیر نیاب علی بھی شامل ہیں۔ پاکستان نے 2004 میں اس معاہدے پر دستخط کیے تھے اور 2008 میں اس کی توثیق کی تھی۔
پاکستان کی رپورٹ میں کیا کہا گیا ہے
پاکستان نے اپنی متواتر رپورٹ میں کہا ہے کہ معاہدے میں درج انسانی حقوق کو ملکی قانونی نظام میں قابل نفاذ بنانے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق عدالتیں اور انتظامی محکمے معاہدے میں درج کسی بھی حق کی خلاف ورزی کا نوٹس لینے کے مجاز ہیں۔ رپورٹ میں معاہدے کے آرٹیکل 1 سے 15 تک کے نفاذ کی تفصیلات دی گئی ہیں۔
یہ اجلاس ایک تاریخی موقع پر ہو رہا ہے، کیونکہ اس سال آئی سی ای ایس سی آر اور شہری و سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے کی 60 ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق چھ دہائیوں سے یہ دونوں معاہدے بین الاقوامی انسانی حقوق کے نظام کی بنیاد ہیں، جنہوں نے اس اصول کو مضبوط کیا کہ تمام انسانی حقوق عالمی، ناقابل تقسیم اور باہم مربوط ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے تحفظات
دوسری جانب ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس جائزے کے موقع پر کمیٹی کو ایک بریفنگ پیپر پیش کرنا ہے، جس میں اس نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے تین بنیادی حقوق کو ملکی قانون سازی میں پابند حقوق کے طور پر شامل کرنے کے لیے “ٹھوس اقدامات” نہیں کیے۔ تنظیم کے مطابق رپورٹنگ کی مدت میں آئین میں کئی ترامیم کے باوجود ان حقوق کو بنیادی حقوق کے باب میں شامل کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔
ایمنسٹی نے سفارش کی ہے کہ پاکستان معاہدے میں تسلیم شدہ حقوق کو مکمل طور پر ملکی قانون سازی میں شامل کرے اور تمام عدالتوں اور ٹریبونلز کے سامنے ان کے براہ راست نفاذ کو یقینی بنائے۔ تنظیم نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ ججوں، پراسیکیوٹرز، وکیلوں اور سرکاری عہدیداروں کو معاہدے کے نفاذ کے بارے میں باقاعدہ اور لازمی تربیت دی جائے۔ یہ دعوے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ہیں، اور جنیوا میں ہونے والا جائزہ ہی ان نکات پر پاکستان کے موقف کو سامنے لائے گا۔
پاکستان کی اقوام متحدہ میں حالیہ سرگرمیوں کا ایک اور پہلو اقوام متحدہ میں پاکستان کی 3 قراردادوں کی منظوری ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے امن مشنوں کے مستقبل پر مغربی صحارا مشن کے خاتمے کی خبر بھی توجہ کا مرکز رہی۔ آج کا جائزہ پاکستان کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کہ اس سے معاشی اور سماجی حقوق کے شعبے میں اصلاحات کی سمت کا اندازہ ہوگا، اور کمیٹی کی سفارشات آئندہ برسوں میں پالیسی سازی پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔
ماخذ: ڈان (4 نومبر 2026)؛ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے دعوے تنظیم کی بریفنگ سے منسوب ہیں۔