ٹرمپ: سال کے آخر سے اسرائیل کو 4 ارب ڈالر بند
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ معاہدہ کیا ہے جس کے تحت واشنگٹن رواں سال کے آخر سے اسرائیل کو سالانہ 4 ارب ڈالر کی مالی امداد دینا بند کر دے گا، تاہم اسرائیل کو اسلحہ کی فروخت جاری رہے گی۔ یہ اعلان ٹرمپ نے منگل کے روز فاکس نیوز کے پروگرام “فاکس اینڈ فرینڈز” میں کیا، جس دن امریکہ میں مڈٹرم انتخابات کے لیے ووٹنگ ہو رہی تھی۔
ٹرمپ نے کیا کہا
ٹرمپ نے انٹرویو میں کہا کہ “بی بی نیتن یاہو اور میں نے معاہدہ کیا ہے کہ ہم اسرائیل کو سالانہ 4 ارب ڈالر دیتے ہیں، اور ہم نے کئی ماہ پہلے معاہدہ کیا تھا کہ ہم یہ ادائیگی روک رہے ہیں۔ ہم پہلے ہی اس بات پر متفق ہو چکے ہیں کہ اس سال کے آخر تک ہم اسرائیل کو ادائیگی نہیں کریں گے۔ اب اگر انہیں ضرورت ہوئی تو ہم ان کی مدد کریں گے۔”
رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ امداد کیسے بند ہو گی، کیونکہ موجودہ مفاہمتی یادداشت (میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ) کے تحت امریکہ اسرائیل کو سالانہ 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد دیتا ہے اور یہ معاہدہ ستمبر 2028 تک ختم نہیں ہو رہا۔ اس سوال پر بھی کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی کہ آیا یہ فیصلہ کانگریس کی منظوری سے مشروط ہے یا انتظامی حکم سے نافذ ہو گا۔
اعلان کا وقت اور سیاق
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ میں مڈٹرم انتخابات ہو رہے ہیں اور ٹرمپ کی پارٹی کو کانگریس میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے کا چیلنج درپیش ہے۔ ٹرمپ نے اس اقدام کو جزوی طور پر اس دلیل سے جوڑا کہ امریکہ کو اپنی رقم اپنے ملک میں خرچ کرنی چاہیے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ضرورت پڑنے پر امریکہ اسرائیل کی مدد جاری رکھے گا۔
اسرائیل میں سیاسی صورتحال بھی غیر یقینی ہے۔ 27 اکتوبر کے انتخابات میں نیتن یاہو اپنی حکومتی اکثریت کھو بیٹھے ہیں، اگرچہ ان کے مخالفین کو بھی انہیں ہٹانے کا واضح راستہ نہیں ملا۔ اس پس منظر میں ٹرمپ کا اعلان اسرائیلی سیاست اور امریکہ اسرائیل تعلقات دونوں کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔
امریکہ اسرائیل امداد کی تاریخ
امریکہ کئی دہائیوں سے اسرائیل کا سب سے بڑا فوجی امداد دینے والا ملک ہے۔ موجودہ 10 سالہ معاہدے کے تحت اسرائیل کو سالانہ 3.8 ارب ڈالر ملتے ہیں، جس میں میزائل دفاعی نظاموں کے لیے بھی رقم شامل ہے۔ اگر ٹرمپ کا اعلان نافذ ہوتا ہے تو یہ دہائیوں پرانی امدادی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی ہو گی، تاہم اسلحہ کی فروخت جاری رہنے کا مطلب ہے کہ فوجی تعاون مکمل طور پر ختم نہیں ہو گا۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کی قراردادوں اور اسرائیل کی مخالفت سے متعلق حالیہ خبر یہاں پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=3580
امریکی مڈٹرم انتخابات کے نتائج اور ٹرمپ کے ردعمل کی تفصیل یہاں ملاحظہ کریں: https://niazitvnews.com/?p=3597
ردعمل اور آگے کیا ہو گا
ابھی تک اسرائیلی حکومت کی طرف سے اس اعلان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اصل سوال یہ ہے کہ آیا یہ فیصلہ قانونی طور پر موجودہ معاہدے پر حاوی ہو سکتا ہے اور کانگریس اس پر کیا موقف اختیار کرتی ہے۔ آنے والے دنوں میں وائٹ ہاؤس اور محکمہ خارجہ کی وضاحتیں اس معاملے کی اصل سمت واضح کریں گی۔
ذرائع: رائٹرز، ٹریبیون (4 نومبر 2026)۔