کراچی میں اساتذہ پر آنسو گیس، کئی گرفتار

0

کراچی میں سندھ کے پرائمری اساتذہ کے احتجاج پر پولیس نے بدھ 4 نومبر کو آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا اور کئی مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔ اساتذہ اپنے سروس اسٹرکچر کی بحالی، ترقیوں اور ملازمت سے متعلق دیگر حقوق کے مطالبے پر کراچی پریس کلب کے باہر دھرنا دے رہے تھے، اور وہاں سے وزیر اعلی ہاؤس کی طرف مارچ کرنا چاہتے تھے۔ پولیس نے انہیں منزل تک پہنچنے سے روک دیا، جس کے بعد علاقے میں کشیدگی پیدا ہو گئی۔

احتجاج کہاں اور کیسے شروع ہوا

پرائمری اسکول ٹیچرز ایسوسی ایشن سے وابستہ اساتذہ سندھ کے مختلف اضلاع سے کراچی پہنچے تھے۔ انہوں نے پہلے کراچی پریس کلب کے باہر دھرنا دیا، پھر وزیر اعلی ہاؤس کی طرف مارچ کی کوشش کی۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق پولیس اہلکاروں نے مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے آنسو گیس کے شیل فائر کیے اور واٹر کینن استعمال کی۔ اس کارروائی سے قریبی دفاتر میں کام کرنے والے افراد بھی متاثر ہوئے۔

ٹریفک کی صورتحال

احتجاج کے بعد کراچی پریس کلب کے اطراف کی سڑکیں ٹریفک کے لیے بند کر دی گئیں، جبکہ سر سید روڈ بھی بند رہی۔ ٹریفک پولیس کے مطابق ٹریفک کو ایوان صدر روڈ اور زینب مارکیٹ کی طرف موڑ دیا گیا۔ اس دوران علاقے میں آنے جانے والوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، اور شہریوں کو متبادل راستے استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی۔

اساتذہ کے مطالبات کیا ہیں

احتجاجی اساتذہ کا کہنا ہے کہ کئی سال گزرنے کے باوجود ان کی ترقی کا وعدہ پورا نہیں ہوا۔ ان کے مطالبات میں سروس اسٹرکچر کی بحالی اور پے گریڈز میں اپ گریڈیشن شامل ہے۔ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ اساتذہ کو ان کی ابتدائی تقرری کی تاریخ سے مستقل حیثیت دی جائے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ٹرانسفر پالیسی پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے، اور کہا ہے کہ اساتذہ کے تبادلے سندھ سیکریٹریٹ کے بجائے ضلعی سطح پر کیے جائیں۔

کلسٹر ہب پالیسی اور اسکولوں کا انضمام

اساتذہ نے کلسٹر ہب پالیسی کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا ہے، اور چھوٹے سرکاری اسکولوں کو بڑے اداروں میں ضم کرنے کے فیصلے کو واپس لینے کا کہا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ اسکولوں کے انضمام سے تعلیمی نظام پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔ مظاہرین نے اعلان کیا ہے کہ ان کا احتجاج اور دھرنا اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ان کے تمام مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے۔ خبر کے مطابق یہ رپورٹ ابھی اپ ڈیٹ ہو رہی ہے، اس لیے حکام کے حتمی ردعمل اور حراست میں لیے گئے افراد کی درست تعداد کے بارے میں مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

مزید پڑھیں: بلوچستان سے 100 سے زائد اسکالرز کا انخلا اور کے فور منصوبہ: تاخیر کی تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم۔

ماخذ: ایکسپریس ٹریبیون، 4 نومبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *