سعودی انجینئر کی OpenAI میں جاسوسی؟ — ایگزیکٹیو کمرے میں خفیہ ریکارڈنگ ڈیوائس لگانے پر FBI نے عبدالرحمان الفوزان کو گرفتار کر لیا
امریکی خفیہ ایجنسی ایف بی آئی نے چیٹ جی پی ٹی بنانے والی کمپنی OpenAI کے ایک انجینئر کو گرفتار کر لیا ہے، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے کمپنی کے ایگزیکٹیو کانفرنس روم میں ٹی وی کے پیچھے ایک خفیہ آڈیو ریکارڈنگ ڈیوائس نصب کی تھی۔ ملزم کی شناخت 35 سالہ سعودی شہری عبدالرحمان الفوزان کے طور پر ہوئی ہے، جو جولائی 2025 سے OpenAI میں انجینئر کے طور پر کام کر رہے تھے۔ امریکی محکمہ انصاف کے مطابق انہیں 9 اکتوبر کو گرفتار کیا گیا اور 13 اکتوبر کو وفاقی عدالت میں پیش کیا گیا۔
ٹشو پیپر میں چھپائی گئی ڈیوائس
ایف بی آئی کی شکایت کے مطابق، 30 ستمبر 2026 کو OpenAI کے اہلکاروں کو سان فرانسسکو کے دفتر کے ایک ایگزیکٹیو کانفرنس روم میں ٹی وی کے پچھلے حصے کے یو ایس بی پورٹ میں لگی ایک خفیہ آڈیو ریکارڈنگ ڈیوائس ملی۔ کمپنی کے مطابق ڈیوائس ٹشو پیپر میں لپیٹ کر چھپائی گئی تھی اور اسے 28 ستمبر کے لگ بھگ نصب کیا گیا تھا۔ ڈیوائس میں محفوظ ڈیٹا خفیہ کوڈ (انکرپٹڈ) میں تھا۔ یہ کانفرنس روم عموماً ایسی میٹنگز کے لیے استعمال ہوتا تھا جن میں کمپنی کی حساس تحقیق، مصنوعات کے منصوبوں اور ٹیکنالوجی سے متعلق اہم بات چیت ہوتی تھی۔
نگرانی کی فوٹیج نے کیا دکھایا؟
محکمہ انصاف کے مطابق الفوزان کو کمرے تک رسائی کی اجازت نہیں تھی، لیکن نگرانی کی فوٹیج میں وہ ڈیوائس ملنے سے پہلے کئی بار اس کمرے کے آس پاس دیکھے گئے۔ ایف بی آئی کے مطابق 5 اکتوبر کو وہ کمرے میں داخل ہوئے اور ٹی وی کے پیچھے کا حصہ چیک کرتے دکھائی دیے۔ اسی دن ان کا ایک چھوڑا ہوا بیگ بھی ملا جس میں ان کا پرس، شناختی دستاویزات اور اسی طرح کی ایک اور ریکارڈنگ ڈیوائس تھی۔ OpenAI کا کہنا ہے کہ کمپنی نے اپنے ہی اے آئی ماڈلز کی مدد سے ڈیوائس کا تجزیہ کر کے ملزم کا سراغ لگایا، پھر معاملہ ایف بی آئی کو بھجوا دیا اور ملازم کو نوکری سے نکال دیا۔
الزامات اور آئندہ سماعت
ملزم پر “زبانی گفتگو کی خفیہ ریکارڈنگ کے لیے الیکٹرانک ڈیوائس استعمال کرنے یا استعمال کی کوشش” کا الزام ہے۔ الزام ثابت ہونے پر انہیں پانچ سال تک قید، 250,000 ڈالر جرمانہ اور تین سال کی نگرانی شدہ رہائی کی سزا ہو سکتی ہے۔ ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے کہا کہ ملزم پر الزام ہے کہ انہوں نے کمپنی کی “سپر انٹیلیجنس ٹیکنالوجی” سے متعلق حساس بات چیت ریکارڈ کرنے کے لیے خفیہ ڈیوائس چھپائی۔ تاہم OpenAI کا کہنا ہے کہ اب تک کوئی شواہد نہیں ملے کہ ماڈل ویٹس، سورس کوڈ یا صارفین کے ڈیٹا تک غیر مناسب رسائی ہوئی۔ ملزم کی اگلی پیشی 19 اکتوبر کو ہوگی، جہاں حراستی سماعت طے ہے۔ یاد رہے کہ یہ تمام الزامات ہیں اور ابھی عدالت میں ثابت نہیں ہوئے۔
(ذریعہ: امریکی محکمہ انصاف، الجزیرہ، اکنامک ٹائمز)