کراچی: اغوا برائے تاوان کا ڈرامہ بے نقاب — کزن کے ہاتھوں نوجوان کا قتل، دو ملزم گرفتار، اعترافِ جرم

0
کراچی کی گلی میں پولیس کی تفتیشی کارروائی

کراچی میں اغوا برائے تاوان کا ڈرامہ رچا کر اپنے ہی کزن کو قتل کرنے کا مبینہ واقعہ بے نقاب ہو گیا ہے۔ ملیر کے ایس ایس پی کے مطابق پولیس نے مرکزی ملزم فیصل کو گرفتار کیا ہے، جس نے تفتیش کے دوران مبینہ طور پر اپنے کزن زین العابدین کے قتل کا اعتراف کیا ہے۔ مقتول سعودی عرب سے اپنے والدین سے ملنے پاکستان آیا تھا اور 14 اکتوبر کو لاپتہ ہوا تھا۔

نوجوان کیسے لاپتہ ہوا؟

پولیس کے مطابق 23 سالہ زین العابدین، جو سعودی عرب میں درزی کا کام کرتا تھا، حال ہی میں اپنے والدین سے ملنے پاکستان آیا تھا۔ وہ 14 اکتوبر کی صبح موٹر سائیکل پر گھر سے نکلا (اسٹیل ٹاؤن تھانے کی حدود) اور واپس نہ آیا۔ والد محمد خان نے تلاش کے بعد اسٹیل ٹاؤن تھانے میں اغوا کا مقدمہ درج کرایا۔ اغوا کے بعد اہل خانہ کو تاوان کی کال موصول ہوئی — تاوان کی رقم مختلف ذرائع میں مختلف بتائی گئی ہے (ڈان کے مطابق 5 لاکھ روپے، اے آر وائی کے مطابق 7 لاکھ روپے)۔

اغوا کا ڈرامہ کیسے بے نقاب ہوا؟

ایس ایس پی ملیر ڈاکٹر عبدالخالق پیرزادہ کے مطابق مقتول کے ماموں زاد بھائی فیصل نے مبینہ تاوان ادا کیا اور زین کا ایک کٹا ہوا ہاتھ ان کے والدین کے پاس لے آیا۔ اس پر پولیس نے فیصل کو حراست میں لیا۔ تفتیش کے دوران فیصل نے مبینہ طور پر انکشاف کیا کہ یہ اغوا برائے تاوان کا معاملہ نہیں تھا — فیصل اور مرحوم زین ایک ہی خاتون سے جذباتی تعلق رکھتے تھے اور ان کے درمیان تنازع چل رہا تھا۔ پولیس کے مطابق فیصل نے اسی تنازع پر زین کو قتل کرنے کا اعتراف کیا۔

لاش کی برآمدگی اور نیا انکشاف

پولیس کے مطابق گرفتار ملزم کی نشاندہی پر زین کی لاش بن قاسم تھانے کی حدود میں کچرے کے ڈھیر سے برآمد ہوئی، جبکہ ملزم کے مبینہ ساتھی انصر کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اے آر وائی کی 17 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق ملزمان نے لاش بوری میں ڈال کر ویران جگہ پھینک دی تھی اور بوری پر پیلے کپڑے کا ٹکڑا بندھا تھا۔ کٹا ہوا ہاتھ ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے بھیجا گیا ہے۔ اے آر وائی کے مطابق ملزم نے تفتیش میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ مقتول کے موبائل فون میں ایک لڑکی کی نامناسب ویڈیو تھی جس پر جھگڑا ہوا تھا — یہ صرف ملزم کا اپنا بیان ہے جس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔

ذرائع: ڈان (17 اکتوبر 2026)؛ اے آر وائی نیوز (17 اکتوبر 2026)۔ اعتراف پولیس کے مطابق ہے؛ عدالت میں ابھی ثابت نہیں ہوا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *