R4 اعلامیہ: “اسرائیلی قبضہ عدم استحکام کی بنیادی جڑ”

0

ترکیہ، مصر، پاکستان اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ نے جمعہ 23 اکتوبر کو استنبول میں ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ “اسرائیلی قبضہ خطے اور اس سے باہر عدم استحکام کی بنیادی جڑ ہے”۔ چاروں ممالک نے فوری دو ریاستی حل پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے۔

اعلامیہ استنبول میں R4 گروپ کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد جاری ہوا، جس میں پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان، مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاتی اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان شریک تھے۔

دو ریاستی حل کا مطالبہ

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی پالیسیوں نے دنیا بھر میں ناانصافی کے احساس کو گہرا کیا ہے اور دیرپا علاقائی امن کے امکانات کو نقصان پہنچایا ہے۔

وزرائے خارجہ نے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور 4 جون 1967 کی خطوط کی بنیاد پر، مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنا کر، ایک آزاد، خودمختار اور متصل فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا۔

انہوں نے اسرائیلی تشدد اور یروشلم کی قانونی و تاریخی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششوں کے فوری خاتمے کا بھی مطالبہ کیا، اور مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں اسرائیلی آبادکاری کی تمام سرگرمیوں کی مذمت کی۔

غزہ کی امداد اور تعمیر نو

اعلامیے میں غزہ کی پٹی میں بغیر رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی اور فوری تعمیر نو کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ وزرائے خارجہ نے کہا کہ جنگ نے بے مثال تباہی اور انسانی تکلیف پیدا کی ہے۔

ایران کے ساتھ جنگ پر بات چیت کا مطالبہ

مشترکہ اعلامیے میں ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے حوالے سے مکالمے اور سفارت کاری پر زور دیا گیا۔ چاروں ممالک نے کہا کہ یہ بحران “صرف بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے” حل ہونا چاہیے۔

انہوں نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان جون میں طے پانے والے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (Islamabad MoU) کی حمایت کا اعادہ کیا اور دونوں فریقین سے پائیدار مذاکراتی حل کی جانب بڑھنے کا مطالبہ کیا۔

آبنائے ہرمز پر بغیر رکاوٹ گزرنے کا مطالبہ

وزرائے خارجہ نے قانونی جہاز رانی پر پابندی والے کسی بھی اقدام کو مسترد کیا اور آبنائے ہرمز کے ذریعے محفوظ اور بغیر رکاوٹ گزرنے کی مکمل بحالی کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تجارتی رکاوٹیں عالمی توانائی، کھاد اور خوراک کی فراہمی کو خطرے میں ڈالتی ہیں۔

حوثیوں کی مذمت، سعودی عرب سے یکجہتی

اعلامیے میں حوثی ملیشیا کی “ناقابل قبول شدت” کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی گئی اور سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ وزرائے خارجہ نے حوثیوں سے تمام فوجی کارروائیاں فوری بند کرنے اور سیاسی عمل کی طرف لوٹنے کا مطالبہ کیا۔

یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب حوثیوں نے ریاض کے بین الاقوامی ایئرپورٹ اور سعودی آرامکو پر حملے کیے ہیں، اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی عروج پر ہے۔ ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان کے مطابق اس میٹنگ سیریز میں برطانیہ، جرمنی، فرانس اور اٹلی بھی شامل ہوئے۔

متعلقہ خبریں

دوحہ میں “بدر معاہدے” پر دستخط — پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا دفاعی تعاون میں متحد

ایران کا دعویٰ: خلیج فارس میں چار تیل بردار بحری جہازوں کو نشانہ بنا کر آگ لگا دی

ماخذ: الجزیرہ، ڈیلی صباح، عرب نیوز، اے پی پی/اردو پوائنٹ (23 اکتوبر 2026)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *