اردن کا شام میں عسکریت پسندوں پر فضائی حملہ
اردن کا شام میں عسکریت پسندوں پر فضائی حملہ کر دیا گیا ہے — اردن کی فضائیہ نے پیر 26 اکتوبر 2026 کی شام شام کے جنوبی علاقوں میں عسکریت پسند گروپوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ یہ کارروائی 23 اکتوبر کو اردن کے علاقے کرک میں ایک چرچ پر ہونے والے مہلک حملے کے جواب میں کی گئی، جس میں 9 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
چرچ پر حملہ کیا ہوا تھا؟
جمعہ 23 اکتوبر 2026 کو مسلح افراد نے کرک گورنریٹ کے گاؤں حمود میں یونانی آرتھوڈوکس سینٹ جارج چرچ میں جنازے کی تقریب کے دوران فائرنگ کر دی، جس میں 9 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ کرک میں ایک بڑی مسیحی برادری آباد ہے، جبکہ مسلم اکثریتی ملک اردن میں مسیحی آبادی کا تناسب دو سے تین فیصد کے درمیان بتایا جاتا ہے۔
اس حملے کے بعد اردن کے شاہ عبداللہ نے سیکیورٹی فورسز کو “آہنی ہاتھ” سے جواب دینے کا حکم دیا تھا، اور ملک میں اس حملے کو انتہائی غیر معمولی واقعہ قرار دیا گیا کیونکہ اردن کو نسبتاً مستحکم امریکی اتحادی سمجھا جاتا ہے۔ حملے کے بعد سوگ اور یکجہتی کے مظاہرے بھی ہوئے، جن میں رام اللہ میں مسیحی برادری کی جانب سے متاثرین سے اظہار یکجہتی کی تقریب بھی شامل تھی۔
تین ملزمان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟
حملے کے بعد پیر 26 اکتوبر کو اردن کی سیکیورٹی فورسز نے تین ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ اردن کے ڈائریکٹر پبلک سیکیورٹی میجر جنرل عبداللہ المعایتہ نے گرفتار ملزمان کے نام ہزاع زیدان محمد، مشعل زیدان محمد اور احمد سامی حسین بتائے۔ ان میں سے دو بھائی ہیں اور تیسرا ان کا رشتہ دار ہے۔
حکام کے مطابق ملزمان ایک ویران مکان میں محصور ہو گئے تھے، جہاں انہوں نے سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ بھی کی۔ تینوں ملزمان زخمی حالت میں گرفتار ہوئے اور اسپتال میں زیر علاج ہیں، جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ سیکیورٹی فورسز کا اس کارروائی میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ وزیر داخلہ مازن الفرایہ نے کہا کہ تحقیقات ابھی جاری ہیں اور ابھی تک ان ملزمان کے کسی اور سیل سے تعلق کے شواہد نہیں ملے ہیں۔
شام میں فضائی حملوں میں کیا ہوا؟
اردن کی مسلح افواج کے بیان کے مطابق فضائیہ کے طیاروں نے جنوب مشرقی شام میں مسلح گروپوں کے کئی ٹھکانے تباہ کر دیے اور ان گروپوں کے متعدد ارکان کو ہلاک اور زخمی کیا۔ اردن کے مطابق یہ گروپ چرچ حملے کے مرتکب افراد سے منسلک تھے۔ بعد میں اردن کے حکومتی ترجمان محمد المومنی نے کہا کہ حملوں میں داعش کے 20 جنگجو ہلاک ہوئے، تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ کچھ شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
دوسری جانب شام کی سول ڈیفنس سروس کے مطابق حملوں میں کم از کم 7 افراد ہلاک ہوئے۔ درعا صوبے کے گاؤں الطائی میں ایک خیمے پر حملے میں ایک ہی خاندان کے 5 افراد — ایک مرد، ایک خاتون اور تین بچے — ہلاک ہوئے، جبکہ خاندان کے تین دیگر افراد زخمی ہوئے۔ درعا کے الشیحہ میں 80 سالہ ایک بزرگ اور سویدا صوبے کے شہبا قصبے میں 60 سالہ ایک شخص بھی ہلاک ہوا۔ شام کے محکمہ صحت کے حکام نے بعد میں ہلاکتوں کی تعداد 8 تک بتائی، جن میں ایک بزرگ اور تین بچے شامل تھے۔
اردن اور شام کے درمیان ہم آہنگی پر تنازع
حملوں کے بعد ایک سفارتی تنازع بھی سامنے آیا ہے۔ اردن کی فوج نے ابتدائی طور پر کہا تھا کہ یہ کارروائی شامی حکومت کے ساتھ ہم آہنگی میں کی گئی، لیکن دمشق کی حکومت نے کہا کہ حملے بغیر کسی پیشگی ہم آہنگی یا اطلاع کے کیے گئے اور اس نے اس معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
حملوں کے بعد شام کی سرحدی اتھارٹی نے نصیب کراسنگ بند کر دی، جس سے دونوں سمتوں میں آمد و رفت معطل ہو گئی۔ نصیب اردن اور شام کے درمیان مسافروں اور تجارتی سامان کے لیے واحد کراسنگ ہے، اس لیے اس کی بندش سے سرحدی تجارت اور آمد و رفت پر فوری اثر پڑا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ چرچ حملے کے بعد کا بحران اب صرف سیکیورٹی کارروائی تک محدود نہیں رہا، بلکہ دونوں پڑوسی ملکوں کے تعلقات پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے۔
آگے کیا ہو سکتا ہے؟
اردن کی حکومت نے واضح کیا ہے کہ انتہا پسند دہشت گردی کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس معاملے کی فائل ابھی بند نہیں ہوئی ہے۔ دوسری جانب شام میں شہری ہلاکتوں کی خبروں نے اس کارروائی پر سوالات اٹھا دیے ہیں، خاص طور پر اس لیے کہ ہلاک ہونے والوں میں بچے اور بزرگ شامل ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر اس واقعے کو مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں سرحد پار عسکریت پسندی اور اس کے جواب میں فوجی کارروائیاں علاقائی استحکام کے لیے نیا چیلنج بن رہی ہیں۔ آنے والے دنوں میں شام کی تحقیقات کے نتائج اور نصیب کراسنگ کی بحالی اس بحران کی سمت طے کریں گے۔
مزید پڑھیں: مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر ہماری خبر https://niazitvnews.com/?p=2239 اور دمام ایئرپورٹ حملے پر ہماری خبر https://niazitvnews.com/?p=1301
ذرائع: الجزیرہ، دی ہندو، یروشلم پوسٹ، گلف نیوز — 26 اور 27 اکتوبر 2026 کی رپورٹس۔