افغانستان سے تجارتی تعلقات بند ہوئے ایک سال — پاکستانی برآمد کنندگان کو 2.5 ارب ڈالر کا نقصان، دوائیں پھنس گئیں
پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی تعلقات منقطع ہوئے تقریباً ایک سال بیت چکا ہے اور اس بندش کے نتیجے میں پاکستانی برآمد کنندگان کو 2.5 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے۔ متعدد تاجروں کا سامان سرحد پر پھنسا ہوا ہے جبکہ وسطی ایشیا کی منڈیوں تک پہنچنے کے لیے انہیں مہنگے اور طویل متبادل راستے اختیار کرنے پڑ رہے ہیں۔
دواسازی کی صنعت سب سے زیادہ متاثر
یہ بندش پاکستان کی دواسازی کی صنعت کے لیے سب سے تباہ کن ثابت ہوئی ہے، کیونکہ افغانستان پاکستانی ادویات کی سب سے بڑی برآمدی منڈی تھا۔ پشاور کی دوا ساز فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی نوکریاں بھی خطرے میں ہیں۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ افغانستان سے تعلقات منقطع ہونے کے باعث وسطی ایشیا کی منڈیوں تک رسائی بھی عملاً بند ہو گئی ہے، کیونکہ افغانستان پاکستان کے لیے ان منڈیوں کا راستہ تھا۔
بندش کی وجہ
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کراسنگز اکتوبر 2025 میں پاک-افغان سرحد پر ہونے والی خونی جھڑپوں کے بعد بند کر دی گئی تھیں۔ اسلام آباد نے افغانستان میں موجود دہشت گردوں پر پاکستان میں حملوں کا الزام عائد کیا تھا، جسے کابل نے مسترد کر دیا تھا۔ اس کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی راستے بند ہیں اور تاجر برادری مسلسل نقصان اٹھا رہی ہے۔
کاروباری تنظیموں کے اندازوں کے مطابق اب تک 2.5 ارب ڈالر سے زائد کی تجارت ضائع ہو چکی ہے، اور ہر گزرتا مہینہ نقصان میں اضافہ کر رہا ہے۔ برآمد کنندگان کا مطالبہ ہے کہ حکومت دونوں ممالک کے درمیان تجارتی راستے دوبارہ کھولنے کے لیے سنجیدہ مذاکرات کرے۔
ذرائع: سی این اے