امریکا نے روانڈا کی وزارت دفاع پر پابندیاں لگا دیں

0

امریکا نے روانڈا کی وزارت دفاع پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق یہ پابندیاں جمہوری جمہوریہ کانگو میں سرگرم مسلح گروپ ایم 23 سے مبینہ تعلقات کی بنیاد پر لگائی گئی ہیں۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ روانڈا کو ایم 23 کی حمایت روکنی ہوگی اور مشرقی کانگو سے اپنے فوجی واپس بلانے ہوں گے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس وعدے کی تکمیل ہے جس میں روانڈا کو واشنگٹن امن معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کا پابند بنانا تھا۔ یہ معاہدہ دسمبر میں روانڈا اور کانگو کے رہنماؤں کے درمیان طے پایا تھا اور اس کا مقصد خطے میں امن و خوشحالی قائم کرنا تھا۔

پابندیوں کا دائرہ کیا ہے؟

بدھ کے روز اعلان کردہ امریکی اقدام میں روانڈا کی وزارت دفاع کے ساتھ ساتھ زیگاما کریڈٹ اینڈ سیونگز سوسائٹی کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ نے اس ادارے کو روانڈا کی سیکیورٹی سروسز سے منسلک مالیاتی ادارہ قرار دیا ہے۔ پابندیوں کے تحت ان اداروں سے مالی لین دین روک دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ امریکا اس سے قبل مارچ میں روانڈا ڈیفنس فورس پر بھی پابندیاں لگا چکا ہے۔ یہ فورس وزارت دفاع کے تحت کام کرتی ہے۔ نئی پابندیاں اس سلسلے کی ایک اور کڑی سمجھی جا رہی ہیں۔

ایم 23 اور مشرقی کانگو کا تنازع

ایم 23 نے 2021 میں اپنی بغاوت دوبارہ شروع کی تھی اور اس کے بعد سے اس گروپ نے مشرقی کانگو کے معدنیات سے مالا مال علاقوں کے بڑے حصوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ 2025 کے اوائل میں ایم 23 اور روانڈا کی فوج کی کارروائی کے نتیجے میں شمالی اور جنوبی کیوو صوبوں کے دارالحکومت گوما اور بوکاوو پر قبضہ ہوا تھا۔
اقوام متحدہ اور مغربی حکومتوں کا کہنا ہے کہ ایم 23 کو روانڈا کی پشت پناہی حاصل ہے، تاہم کیگالی اس الزام کی تردید کرتا رہا ہے۔ روانڈا کا موقف ہے کہ اسے کانگو میں سرگرم اس ملیشیا سے وجودی خطرہ لاحق ہے جس کی بنیاد 1994 میں ٹوٹسیوں کی نسل کشی میں ملوث نسلی ہوتو عناصر نے رکھی تھی۔

امریکا کا موقف اور روانڈا کا جواب

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پگاٹ نے کہا ہے کہ روانڈا ڈیفنس فورس کے ہزاروں فوجی شمالی اور جنوبی کیوو میں ایم 23 کے ساتھ مل کر لڑ رہے ہیں۔ واشنگٹن کا مطالبہ ہے کہ روانڈا اس حمایت کو فوری طور پر روکے اور اپنے فوجی واپس بلائے۔
دوسری جانب روانڈا کی حکومت نے تاحال ان پابندیوں پر فوری ردعمل نہیں دیا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق روانڈا اور کانگو کی حکومتوں کے ترجمانوں نے تبصرے کی درخواست پر فوری جواب نہیں دیا۔

خطے میں جنگ اور انسانی بحران

امریکا کی ثالثی میں دسمبر میں طے پانے والی جنگ بندی کے باوجود مشرقی کانگو میں لڑائی جاری ہے۔ یہ خطہ تین دہائیوں سے تنازعات کا شکار ہے اور اب اسے ایبولا کی وبا کا بھی سامنا ہے۔ جنوبی کیوو میں خاص طور پر شدید جھڑپیں ہو رہی ہیں، جب کہ فرنٹ لائن مجموعی طور پر مستحکم دکھائی دیتی ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں خطے میں امن کی کوششوں پر دباؤ بڑھائیں گی، لیکن زمینی حقائق میں فوری تبدیلی کا امکان کم ہے، کیونکہ اب تک کی ثالثی کی کوششوں سے میدان جنگ میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی ہے۔
مزید پڑھیں: ہیومن رائٹس واچ ریو چھاپہ رپورٹ: https://niazitvnews.com/?p=2506 اور امریکا فوڈ ایڈ مقدمہ: https://niazitvnews.com/?p=2503
ماخذ: رائٹرز اور فری ملیشیا ٹوڈے، 28 تا 29 اکتوبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *