امریکی مڈٹرم: اوہائیو اور ٹیکساس میں ڈیموکریٹس کی تاریخی جیت
امریکی مڈٹرم انتخابات میں ڈیموکریٹس کو دو تاریخی کامیابیاں ملی ہیں۔ اوہائیو میں ڈیموکریٹ ایمی ایکٹن ریاست کی پہلی خاتون گورنر منتخب ہو گئی ہیں اور انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حمایت یافتہ ریپبلکن امیدوار وویک راماسوامی کو شکست دی ہے۔ دوسری طرف ٹیکساس میں ڈیموکریٹ جیمز ٹیلاریکو نے ریپبلکن اٹارنی جنرل کین پیکسٹن کو ہرا کر 1988 کے بعد پہلی بار اپنی پارٹی کے لیے سینیٹ کی نشست جیت لی ہے۔ دونوں نتائج ایسوسی ایٹڈ پریس اور دیگر بڑے امریکی میڈیا اداروں کی پروجیکشنز پر مبنی ہیں، حتمی سرکاری تصدیق ابھی باقی ہے۔
اوہائیو: ایکٹن کی تاریخی کامیابی
ایمی ایکٹن 60 سالہ معالج اور اوہائیو کی سابق محکمہ صحت کی سربراہ ہیں جنہوں نے کورونا وبا کے دوران ریاست میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے نتائج کے مطابق 89 فیصد سے زیادہ پولنگ اسٹیشنز کی رپورٹنگ کے بعد ایکٹن کو 2,167,087 ووٹ ملے جبکہ راماسوامی کو 1,932,756 ووٹ ملے۔ ایکٹن 2006 میں ٹیڈ اسٹرک لینڈ کے بعد اوہائیو کی گورنر منتخب ہونے والی پہلی ڈیموکریٹ ہیں اور ریاست کی پہلی خاتون منتخب گورنر ہیں۔ اس سے قبل ریپبلکن نینسی ہولسٹر صرف 11 دن کے لیے اس عہدے پر رہی تھیں۔ یہ مقابلہ غیر معمولی طور پر مہنگا رہا اور اس پر 100 ملین ڈالر سے زیادہ خرچ ہوئے، جس میں راماسوامی اور ان کے حامیوں نے بھاری رقم اشتہارات پر لگائی۔ ایکٹن سبکدوش ہونے والے ریپبلکن گورنر مائیک ڈی وائن کی جگہ لیں گی جو مدت کی حد کی وجہ سے دوبارہ امیدوار نہیں بن سکے۔
ٹیکساس: ٹیلاریکو نے 38 سالہ خشک سالی ختم کر دی
ٹیکساس میں 37 سالہ ریاستی قانون ساز جیمز ٹیلاریکو نے سینیٹ کی نشست جیت کر ڈیموکریٹس کی 38 سالہ خشک سالی ختم کر دی ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے نتائج کے مطابق 82 فیصد سے زیادہ پولنگ اسٹیشنز کی رپورٹنگ کے بعد ٹیلاریکو کو 4,714,395 ووٹ ملے جبکہ پیکسٹن کو 3,704,630 ووٹ ملے۔ ٹیکساس میں آخری بار کسی ڈیموکریٹ نے 1988 میں سینیٹ کی نشست جیتی تھی اور 1994 کے بعد سے کسی ڈیموکریٹ نے ریاست میں کوئی ریاستی عہدہ نہیں جیتا تھا۔ ٹیلاریکو سابق اسکول ٹیچر اور پریسبیٹیرین مدرسے کے طالب علم رہ چکے ہیں اور وہ سینیٹ کے سب سے کم عمر رکن بنیں گے۔ یہ مقابلہ امریکی تاریخ کے مہنگے ترین غیر صدارتی مقابلوں میں سے ایک رہا جس پر اشتہارات میں 500 ملین ڈالر سے زیادہ خرچ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
یہ نتائج کیوں اہم ہیں
دونوں ریاستیں صدر ٹرمپ کی مضبوط حمایت والی ریاستیں سمجھی جاتی ہیں۔ ٹرمپ نے 2024 کے صدارتی انتخاب میں ٹیکساس کو 14 فیصد پوائنٹس کے فرق سے جیتا تھا اور اوہائیو کو تینوں صدارتی انتخابات میں جیتا تھا، اس لیے ان دونوں ریاستوں میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کو ٹرمپ کی دوسری مدت کے خلاف ووٹرز کے موڈ کا اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔ پیکسٹن ٹرمپ کے حمایت یافتہ امیدوار تھے جنہوں نے ریپبلکن پرائمری میں چار بار کے سینیٹر جان کورنن کو شکست دی تھی، جبکہ ان پر 2023 میں مواخذے سمیت کئی تنازعات بھی رہے ہیں۔ ٹیلاریکو نے ڈیموکریٹک پرائمری میں رکن کانگریس جیسمین کروکٹ کو شکست دے کر نامزدگی حاصل کی تھی۔ سینیٹ میں ریپبلکنز کو 53-47 کی اکثریت حاصل تھی اور ڈیموکریٹس کو کنٹرول حاصل کرنے کے لیے چار نشستوں کا خالص اضافہ درکار تھا، اس لیے ٹیکساس کی نشست پارٹی کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔
مڈٹرم کی مجموعی تصویر
اوہائیو اور ٹیکساس کے نتائج مڈٹرم کی اس مجموعی تصویر کا حصہ ہیں جس میں ڈیموکریٹس نے ایوان نمائندگان میں بھی کامیابی حاصل کی ہے اور کئی ریاستوں میں تاریخی گورنر کامیابیاں سمیٹی ہیں۔ ووٹرز کے لیے مہنگائی اور روزمرہ کی زندگی کی لاگت بڑے مسائل رہے ہیں اور ان انتخابات کو ٹرمپ کی دوسری مدت پر ووٹرز کے فیصلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم یہ نتائج ابھی میڈیا کی پروجیکشنز اور غیر حتمی گنتی پر مبنی ہیں اور حتمی سرکاری نتائج کے اعلان کے بعد ہی ان کی مکمل تصدیق ہوگی۔
مزید پڑھیں: امریکی مڈٹرم، ڈیموکریٹس نے ایوان نمائندگان جیت لیا — https://niazitvnews.com/?p=3584
مزید پڑھیں: امریکی مڈٹرم، جارجیا اور فلوریڈا میں تاریخی گورنر کامیابیاں — https://niazitvnews.com/?p=3578
ذرائع: ایسوسی ایٹڈ پریس، رائٹرز، الجزیرہ اور یو ایس اے ٹوڈے کی 4 نومبر 2026 کی رپورٹس۔