انڈونیشیا کی اسٹاک مارکیٹ میں زلزلہ — ایم ایس سی آئی کی ڈاؤن گریڈ وارننگ کے بعد دوسرے روز بھی 5 فیصد گراوٹ، 6 سال کی کم ترین سطح

0
اے آئی سے بنی تصویر — گرتی اسٹاک مارکیٹ کا گراف اور جکارتہ کا اسکائی لائن، کوئی اصل شخصیت نہیں

انڈونیشیا کی اسٹاک مارکیٹ میں پیر 19 اکتوبر کو ایک اور تاریخی گراوٹ ہوئی — انڈونیشیا اسٹاک ایکسچینج (آئی ڈی ایکس) کا بینچ مارک انڈیکس تقریباً 5 فیصد گر کر 6 سال کی کم ترین سطح پر آ گیا۔ یہ گراوٹ جمعہ کے 11.6 فیصد کے تباہ کن گرنے کے اگلے ہی روز ہوئی، جو 1998 کے ایشیائی مالی بحران کے بعد کا بدترین ایک روزہ ٹریڈنگ سیشن تھا۔

وارننگ کس بات پر؟ — ایم ایس سی آئی کا ڈاؤن گریڈ خطرہ

اس گراوٹ کی وجہ عالمی انڈیکس فراہم کرنے والی کمپنی ایم ایس سی آئی کی وارننگ ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ انڈونیشیا کو “ایمرجنگ مارکیٹ” سے گھٹا کر “اسٹینڈ الون” درجے پر کیا جا سکتا ہے۔ وجہ: مربوط ٹریڈنگ سرگرمیوں اور قواعد کے نفاذ میں ناکامی پر خدشات۔ اگر ایسا ہوا تو انڈونیشیا ان عالمی انڈیکسز سے خارج ہو جائے گا جن کی پیروی غیر فعال سرمایہ کار (پیسو انویسٹرز) کرتے ہیں — یعنی اربوں ڈالر کا انخلا یقینی ہے۔

65 ارب ڈالر کی صفائی — سرمایہ کار خوفزدہ

صرف جمعہ کی فروخت سے انڈونیشین مارکیٹ کا 65 ارب ڈالر کا سرمایہ ختم ہو گیا (ایکسچینج ڈیٹا کے مطابق)۔ آئی ڈی ایکس کے چیف ایگزیکٹو جیفری ہینڈرک نے تصدیق کی ہے کہ ایکسچینج کی قیادت پیر کو ایم ایس سی آئی کے ساتھ آن لائن ملاقات کرے گی: “ہمیں اس کی توقع نہیں تھی۔” انہوں نے مزید کہا کہ پیر کو روزانہ کی گراوٹ کی حد آدھی کر کے 7 فیصد کر دی گئی تاکہ فروخت کا دباؤ کم ہو۔

روپیہ اور بانڈ بھی دباؤ میں

کرنسی مارکیٹ میں انڈونیشین روپیہ 18,040 فی ڈالر تک گر گیا — جون میں ریکارڈ کم ترین 18,190 کے قریب — جبکہ 10 سالہ بانڈ کی شرح 7.4 فیصد تک بڑھ گئی۔ رائٹرز کے مطابق دو سرکاری ذرائع نے بتایا کہ صدر پرابووو سبیانتو پیر کی سہ پہر اعلیٰ مالی حکام سے “موجودہ معاشی صورتحال” پر ملاقات کرنے والے تھے۔

پاکستان کے لیے کیوں اہم ہے؟

ابھرتی مارکیٹوں میں سرمایہ کی اس طرح کی ہلچل کا اثر پورے خطے پر پڑتا ہے — کرنسیوں اور اشیاء کی قیمتوں پر دباؤ عام ہے۔ پاکستانی تاجروں اور سرمایہ کاروں کے لیے ایشیائی منڈیوں کا یہ رجحان نظر میں رکھنا ضروری ہے۔

ماخذ: رائٹرز (انکور بینرجی اور اسٹیفانو سلیمان)، دی بزنس ٹائمز، سی این اے — تمام مضامین 19 اکتوبر 2026 کے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *