ایتھوپیا میں عیسائیوں پر حملے، 60 سے زیادہ ہلاک

0

ایتھوپیا کے اورومیا علاقے میں عیسائی برادری پر حملوں کے سلسلے میں 60 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ایتھوپین آرتھوڈوکس چرچ کے مطابق حملوں میں 20 مکانات جلا دیے گئے، اور متعدد رہائشی علاقہ چھوڑ کر فرار ہو گئے ہیں۔ چرچ کے ایک عہدیدار نے ان حملوں کو قتل عام قرار دیا ہے۔

شرکا ضلع میں 24 اکتوبر کے حملے

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق حملے ہفتہ 24 اکتوبر 2026 کو شرکا ضلع میں ہوئے، جہاں مسلح افراد نے دیہات اور دو گرجا گھروں کو نشانہ بنایا، مکانات تباہ کیے اور املاک لوٹ لیں۔ چرچ کے مطابق 24 اکتوبر کو شرکا ضلع کے دیہات تریتا، چولے اور بیربو میں 46 افراد ہلاک ہوئے۔ اس سے قبل 20 اکتوبر کو مرتی ضلع کے گورا سلنگو میں 14 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ دونوں اضلاع وسطی ایتھوپیا کے اورومیا علاقے کے آرسی زون میں واقع ہیں۔

ہلاکتوں کی تعداد میں فرق

ہلاکتوں کی درست تعداد کے بارے میں مختلف ذرائع میں فرق پایا جاتا ہے۔ چرچ کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر 60 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ مقامی رپورٹس میں ہلاکتوں کی تعداد 43 سے 51 کے درمیان بتائی گئی ہے۔ بی بی سی امہارک کو بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والوں میں پانچ بچے بھی شامل ہیں۔ تقریباً 18 سے 20 افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

عینی شاہد کی کہانی

ایک رہائشی نے بی بی سی امہارک کو بتایا کہ اس کے 75 سالہ والد بھی حملے میں ہلاک ہو گئے۔ اس کا کہنا تھا کہ حملہ اچانک ہوا اور وہ بالکل تیار نہیں تھے۔ اس نے بتایا کہ حملہ آوروں نے انہیں چاروں طرف سے گھیر لیا تھا۔ ایک اور عینی شاہد نے بتایا کہ رات کی ڈیوٹی پر موجود کئی مرد صبح گھر واپس آ کر آرام کر رہے تھے جب حملہ آوروں نے حملہ کیا۔

ذمہ داری کا الزام اور تردید

ایک مقامی عہدیدار نے حملوں کا الزام نئے بننے والے باغی اتحاد الائنس فار سروائیول پر لگایا ہے، جس میں اورومو لبریشن آرمی بھی شامل ہے۔ تاہم اس اتحاد یا اورومو لبریشن آرمی کی طرف سے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے، اور اورومو لبریشن آرمی ماضی میں بھی شہریوں پر حملوں کے الزامات کی تردید کر چکی ہے۔ چرچ کے بیان میں کسی گروہ کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا ہے۔ اورومیا کی علاقائی حکومت نے کہا ہے کہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

چرچ کا مطالبہ

ایتھوپین آرتھوڈوکس تیواہیڈو چرچ کی مقدس سینوڈ نے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عیسائیوں کے خلاف حملوں میں حالیہ عرصے میں اضافہ ہوا ہے، اور اس طرح کے اقدامات ملک میں باہمی احترام اور پرامن بقائے باہمی کی اقدار کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ چرچ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حملوں کی عوامی مذمت کرے، شہریوں کے تحفظ کو مضبوط بنائے اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے۔ چرچ نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ متاثرہ برادریوں کے تحفظ کے لیے اضافی اقدامات کیے جائیں اور آئندہ حملوں کو روکنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں۔

پس منظر: اورومیا میں بدامنی

اورومیا ایتھوپیا کا سب سے بڑا علاقائی صوبہ ہے، جہاں تقریباً 4 کروڑ افراد رہتے ہیں۔ وہاں حکومتی فورسز اور مسلح گروہوں کے درمیان برسوں سے کشیدگی جاری ہے۔ ایتھوپین ہیومن رائٹس کونسل کی جولائی 2026 کی رپورٹ کے مطابق مشرقی آرسی میں گزشتہ چار برسوں کے دوران حملوں میں 458 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ تازہ حملے اس عرصے کے سب سے مہلک حملوں میں سے ایک قرار دیے جا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: اولیشکی میں جنگ بندی نافذ، امداد کا راستہ کھلا
مزید پڑھیں: اسرائیل انتخابات: تاریخی ٹرن آؤٹ، نتائج 4 نومبر کو

ذرائع: بی بی سی، الجزیرہ، ٹائمز ناؤ، 27 اکتوبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *