ایران سے امن معاہدہ “انتہائی مشکل” — امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا اعتراف، آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازعے کے سفارتی حل کی امیدوں کو بڑا دھچکا لگا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے امریکی میڈیا کو انٹرویو میں تسلیم کیا کہ ایران کے ساتھ جامع امن معاہدہ کرنا “انتہائی مشکل” ہوگا، جبکہ تہران نے بھی مؤقف سخت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کے اعتماد سازی کے اقدامات کے بغیر کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔
روبیو: سخت گیر عناصر معاہدے کی راہ میں رکاوٹ
انڈین مالیاتی نیوز چینل سی این بی سی ٹی وی 18 کو دیے گئے انٹرویو میں روبیو نے کہا کہ “ایرانی حکومت کے ساتھ معاہدہ کرنا مشکل ہے” اور الزام لگایا کہ تہران “بنیاد پرست شیعہ مذہبی رہنماؤں” کے زیرِ اثر ہے جو نظریاتی بنیادوں پر چلتے ہیں۔
روبیو نے واضح کیا کہ امریکا ایران پر اقتصادی دباؤ اس وقت تک برقرار رکھے گا جب تک تہران آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملے بند نہیں کرتا۔ یہ اہم آبی گزرگاہ دنیا کے تیل اور ایل این جی کے ایک بڑے حصے کی ترسیل کا راستہ ہے۔
ایران کا دو ٹوک جواب
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے فنانشل ٹائمز میں شائع ہونے والے مضمون میں لکھا کہ “ایران تنازعے کے باعزت پرامن حل کی طرف مضبوطی سے پرعزم ہے، تاہم ہم اپنا دفاع کرنے کے لیے بھی مکمل طور پر تیار ہیں۔”
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سرکاری میڈیا میں شائع ہونے والے بیان میں کہا کہ امریکا دباؤ اور دھمکیوں کے ساتھ مذاکرات کی توقع نہیں رکھ سکتا۔ ان کے الفاظ میں امریکا کو “ہماری قوم کے حقوق تسلیم کرنا ہوں گے اور اپنی بدمعاشی اور جارحیت بند کرنی ہوگی — تب ہی ہم مل کر بیٹھ کر بات چیت کر سکتے ہیں۔”
ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے ایکس پر لکھا کہ “ایران سے افزودہ یورینیم کا ایک گرام بھی نہیں نکالا جائے گا” اور امریکا کے اعتماد سازی کے اقدامات کے بغیر کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔ محسن رضائی نے منگل کو پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات بھی کی تھی۔
پس منظر: سات ماہ سے جاری جنگ
جنگ فروری کے آخر میں اس وقت شروع ہوئی جب امریکا اور اسرائیل نے ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ کیا۔ جون میں مستقل حل کے لیے مفاہمتی یادداشت پر اتفاق ہوا تھا، لیکن 8 جولائی کو ایران کے تجارتی جہازوں پر حملے کے بعد عارضی جنگ بندی ٹوٹ گئی اور مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے۔
ایران نے جنگ کے آغاز میں آبنائے ہرمز کو غیر ملکی جہاز رانی کے لیے بند کر دیا تھا، جس سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ حالیہ دنوں میں ایران نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کی بحری سرنگوں نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے دو آئل ٹینکرز کو روک دیا۔
پاکستان اور قطر کی ثالثی
پاکستان اور قطر کی جانب سے پس پردہ سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ قطری میڈیا کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران بالواسطہ رابطے کے ذریعے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر متفق ہوئے ہیں، اور پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر نے منگل کو ایران کو نیا امن تجویز پیش کی تھی۔ تاہم دونوں فریق اب بھی اپنے مطالبات پر قائم ہیں اور کوئی فریق سمجھوتے پر آمادہ نظر نہیں آ رہا۔
خطے میں کشیدگی کے تازہ واقعات
اسی دوران شمالی عراق کے اربیل میں ایرانی اپوزیشن گروپ کردستان فریڈم پارٹی کے ہیڈکوارٹر پر چار راکٹ داغے گئے۔ پاسداران انقلاب کے سیاسی امور کے نائب کمانڈر جنرل یداللہ جوانی نے خبردار کیا کہ اگر امریکا اور اس کے اتحادیوں نے ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو اسلامی جمہوریہ اپنی مکمل طاقت استعمال کرے گا۔
صدر ٹرمپ نے منگل کو کہا تھا کہ انہیں حتمی فیصلہ کرنا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ تنازع “کس طرح” جیتنا چاہتا ہے — “ہم اچھے طریقے سے جیتیں گے یا اچھے طریقے سے نہیں۔”
ماخذ
ایکسپریس ٹریبیون اور عالمی میڈیا کی 21 اکتوبر 2026 کی رپورٹس سے مرتب۔