ایل پی جی اصلاحات پر 8 رکنی کمیٹی، رپورٹ ایک ماہ میں

0

وزیراعظم شہباز شریف نے مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی پالیسی میں مجوزہ اصلاحات کا جائزہ لینے کے لیے 8 رکنی وزارتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ کمیٹی کو ایک ماہ کے اندر اپنی جامع رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرنا ہوگی۔ یہ فیصلہ ملک میں ایل پی جی کی قیمتوں میں شدید اضافے اور سپلائی میں خلل کے بعد کیا گیا ہے، جس سے عام صارفین بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

کمیٹی میں کون شامل ہے

ڈان کی رپورٹ کے مطابق کمیٹی کی سربراہی وزیر پٹرولیم کریں گے۔ اس میں وزیر اقتصادی امور، وزیر اطلاعات، وزیراعظم کے مشیر برائے بین الصوبائی رابطہ، معاون خصوصی برائے توانائی، سیکریٹری پٹرولیم، ڈائریکٹر جنرل مائع گیسیں اور گورنمنٹ ریلیشنز یونٹ کے سربراہ شامل ہوں گے۔ کمیٹی مجوزہ اصلاحات، سلنڈر کے معیارات اور مقامی ایل پی جی ماڈل کا جائزہ لے گی۔

مجوزہ اصلاحات کیا ہیں

پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے پیش کردہ اصلاحات کے تحت سرکاری ادارے ایل پی جی کی درآمد کے کاروبار میں داخل ہوں گے اور قیمتوں کے تعین کا کام ریگولیٹر اوگرا سے لے کر سرکاری اداروں کو دے دیا جائے گا۔ ماہانہ قیمتوں کا نظام برقرار رہے گا، لیکن قیمتوں کا حساب سعودی آرامکو کے نرخوں اور اصل درآمدی اخراجات سے منسلک درآمدی مساوات کے ماڈل پر کیا جائے گا۔ اس تبدیلی میں پاکستان اسٹیٹ آئل، سوئی کمپنیاں، پارکو اور پاکستان ایل این جی شامل ہوں گی۔

صنعت کا احتجاج کیوں ہوا

ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈیلرز نے نئی پالیسی کو ان سے مشاورت کے بغیر حتمی شکل دینے پر احتجاج کیا تھا۔ یہ پالیسی ایک ہفتے کے اندر نافذ ہونے والی تھی، لیکن احتجاج کے بعد وزیراعظم نے کمیٹی قائم کر دی۔ مجوزہ مسودے میں مارکیٹنگ اور درآمدی کمپنیوں کا مارجن بھی 35 ہزار روپے فی ٹن سے بڑھا کر کم از کم 50 ہزار روپے فی ٹن کرنے کی تجویز ہے، جسے مہنگائی کے تناسب سے ایڈجسٹمنٹ قرار دیا گیا ہے۔

قیمتوں کا موجودہ بحران

اوگرا نے اکتوبر 2026 کے لیے ایل پی جی کی سرکاری قیمت 279 روپے 34 پیسے فی کلو مقرر کی تھی، لیکن مارکیٹ میں 11.57 کلو کا سلنڈر 6 ہزار سے 7 ہزار 200 روپے تک فروخت ہو رہا ہے، جبکہ سرکاری معیار کے مطابق اس کی قیمت تقریباً 3 ہزار 296 روپے بنتی ہے۔ ایران کی سرحد پر تجارت میں تعطل اور سمندری ترسیل میں کمی کو قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل پنجاب اور خیبرپختونخوا میں ایل پی جی کی قیمت 500 سے 600 روپے فی کلو تک پہنچنے کی خبریں بھی سامنے آئی تھیں، جس کی تفصیل اس رپورٹ میں پڑھی جا سکتی ہے: https://niazitvnews.com/?p=1344

صارفین کے لیے اس کا مطلب کیا ہے

اگر کمیٹی کی سفارشات پر عمل ہوا تو ایل پی جی کی قیمتوں کا تعین سرکاری اداروں کے ہاتھ میں آ جائے گا اور اوگرا ماہانہ نوٹیفکیشن جاری نہیں کرے گا۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس سے سپلائی بہتر ہوگی، لیکن صنعت کے ناقدین کا کہنا ہے کہ سرکاری اجارہ داری سے مسابقت کم ہو سکتی ہے۔ حتمی فیصلہ کمیٹی کی رپورٹ کے بعد ہوگا۔ توانائی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے تناظر میں آر ایل این جی کی قیمتوں میں 15 فیصد سے زائد اضافے کی خبر بھی اہم ہے: https://niazitvnews.com/?p=2872

ماخذ: ڈان، 31 اکتوبر 2026؛ جی ٹی وی نیوز، 30 اکتوبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *