بجلی کا یکساں ٹیرف ختم کرنے کی تجویز پیش

0

پاکستان میں بجلی کے یکساں ٹیرف کا نظام ختم کرنے کی تجویز سامنے آ گئی ہے۔ نجکاری کمیشن نے سرکاری بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کے ساتھ بجلی کے شعبے میں بڑی اصلاحات کا 25 صفحات پر مشتمل مسودہ متعلقہ وزارتوں، ریگولیٹرز اور سرمایہ کاروں کو رائے کے لیے بھیج دیا ہے۔ یہ مسودہ ابھی حتمی سرکاری پالیسی نہیں ہے، اور اسے اسی ہفتے وزیر اعظم کے سامنے پیش کیے جانے کی توقع ہے۔

تجویز میں کیا کہا گیا ہے

ڈان کی رپورٹ کے مطابق تجویز کا سب سے اہم نکتہ ڈسکوز میں یکساں بجلی ٹیرف کے نظام کو ختم کرنا ہے۔ اس کے تحت نجی سپلائرز مختلف نرخ وصول کر سکیں گے، جبکہ ان صارفین کے لیے ریگولیٹڈ ٹیرف برقرار رہے گا جو سپلائر آف لاسٹ ریزورٹ کے تحت بجلی حاصل کریں گے۔ یعنی ہر کمپنی کا ٹیرف اس کی بجلی خریدنے کی لاگت، صارفین کی ادائیگی کے رویے، نقصانات اور سروس کی سطح کے حساب سے مختلف ہو سکے گا۔
مسودے میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ ٹیرف میں فرق کی سبسڈی کو ایک مقررہ مدت میں کم کیا جائے اور گھریلو بجلی کی قیمتوں کو بجلی کی اصل فراہمی کی لاگت سے ہم آہنگ کیا جائے، تاہم کمزور گھرانوں کے لیے ہدفی ریلیف برقرار رکھا جائے گا۔ ریگولیٹری ملٹی ایئر ٹیرف کی مدت پانچ سال سے بڑھا کر سات سال کرنے کی بھی تجویز ہے تاکہ سرمایہ کاروں کو زیادہ یقین حاصل ہو۔

سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کا کردار بدلے گا

تجویز کے تحت سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے جی) ریٹیل مارکیٹ کے لیے واحد خریدار کا کردار چھوڑ دے گی۔ لائسنس یافتہ نجی سپلائرز خود بجلی خریدیں گے، صارفین کے پورٹ فولیو سنبھالیں گے اور صارفین کے حصول کے لیے ایک دوسرے سے مقابلہ کریں گے۔ تقسیم کے نیٹ ورک کی ملکیت کو ریٹیل سپلائی سے الگ کرنے کا بھی منصوبہ ہے، جبکہ صلاحیت کی ادائیگی کی پرانی ذمہ داریاں صارفین کے پورٹ فولیو کے ساتھ نجی سپلائرز کو منتقل ہو جائیں گی۔
یوٹیلٹی کمپنیوں کی آمدنی کا تعین اب اثاثوں کی بجائے کارکردگی سے جوڑا جائے گا، جس میں نقصانات میں کمی، وصولیوں میں بہتری اور سروس کے معیار کو بنیاد بنایا جائے گا۔ اس کا مقصد ڈسکوز کو زیادہ موثر بنانا اور صارفین کو بہتر سپلائی دینا ہے۔

تین ڈسکوز کی نجکاری 2027 کی پہلی سہ ماہی میں

بزنس ریکارڈر کی یکم نومبر کی رپورٹ کے مطابق نجکاری کمیشن 2027 کی پہلی سہ ماہی میں تین بجلی تقسیم کار کمپنیوں — فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو)، گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) اور اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) — کی نجکاری کا ہدف رکھتا ہے۔ وزیر اعظم کے مشیر برائے نجکاری اور نجکاری کمیشن کے چیئرمین محمد علی نے بتایا کہ دسمبر میں بولی کا ابتدائی منصوبہ تھا، مگر سرمایہ کاروں کی جانب سے مزید وقت مانگنے پر شیڈول تھوڑا آگے بڑھ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حیدرآباد اور سکھر کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری 2027 کی دوسری سہ ماہی میں مکمل کرنے کا ہدف ہے، جبکہ لاہور، ملتان، پشاور اور ہزارہ کی کمپنیاں 2027 کی دوسری ششماہی کے پروگرام میں شامل ہیں۔ محمد علی کے مطابق حکومت نومبر کے وسط تک اصلاحاتی تجاویز عوام کے سامنے رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے، جس سے پہلے متعلقہ اداروں، وزیر اعظم اور اسٹیرنگ کمیٹی سے مشاورت مکمل کی جائے گی۔

صارفین پر کیا اثر پڑے گا

اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے تو صارفین کے لیے سب سے بڑی تبدیلی یہ ہو گی کہ بجلی کا بل اب ملک بھر میں ایک جیسا نہیں رہے گا۔ اچھی کارکردگی والی کمپنیوں کے علاقوں میں صارفین کو نسبتاً بہتر نرخ اور سروس مل سکتی ہے، جبکہ زیادہ نقصانات والی کمپنیوں کے صارفین کو زیادہ قیمت کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم سپلائر آف لاسٹ ریزورٹ کا نظام ان صارفین کے لیے تحفظ فراہم کرے گا جو مسابقتی سپلائر تک رسائی حاصل نہیں کر سکتے۔
حکومت کا موقف ہے کہ بجلی کے ٹیرف کم کرنا اور سپلائی کے بازار میں مقابلہ لانا ضروری ہے تاکہ صارفین اور صنعتیں قومی گرڈ سے دور نہ ہوں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ نجی سپلائرز کو مختلف نرخوں کی اجازت دینے سے کم آمدنی والے علاقوں کے صارفین پر بوجھ بڑھ سکتا ہے، اس لیے ہدفی سبسڈی اور ریگولیٹری نگرانی کا نظام مضبوط ہونا چاہیے۔

یہ تجویز ابھی حتمی کیوں نہیں

یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ یہ مسودہ ابھی صرف ایک تجویز ہے۔ اسے وزارتوں، ریگولیٹرز اور سرمایہ کاروں کی رائے کے بعد وزیر اعظم کے سامنے پیش کیا جائے گا، اور حتمی منظوری کے بعد ہی یہ پالیسی بنے گی۔ اس لیے صارفین کے بلوں میں کوئی فوری تبدیلی متوقع نہیں ہے، مگر بجلی کے شعبے کی سمت واضح ہو رہی ہے کہ مستقبل میں مقابلہ، نجی سرمایہ کاری اور کارکردگی پر مبنی نظام کی طرف جایا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: پٹرول سستا رکھنے کے لیے ریفائنریز کا 15 ارب کا بوجھ (https://niazitvnews.com/?p=3338) اور بھارت تجارت معطلی سے پاکستان کو 40 ارب ڈالر نقصان کا دعویٰ (https://niazitvnews.com/?p=3331)۔
ماخذ: ڈان، بزنس ریکارڈر — 2 نومبر 2026

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *