برطانیہ: راف فیئر فورڈ کیس میں 2 افراد پر فرد جرم
برطانیہ میں راف فیئر فورڈ ایئربیس سے متعلق کیس میں دو افراد پر قومی سلامتی ایکٹ کے تحت فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق دونوں ملزمان کا تعلق لندن سے ہے اور ان پر غیر ملکی خفیہ ایجنسی کی مدد سمیت سنگین الزامات ہیں۔
دونوں ملزمان کون ہیں اور کیا الزام ہے
خبر رساں اداروں رائٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ملزمان کی شناخت 24 سالہ محمد احمد عبدالکریم اور 24 سالہ نعمان اصغر کے طور پر ہوئی ہے، دونوں کا تعلق لندن کے علاقے ویسٹ منسٹر سے ہے۔ کراؤن پراسیکیوشن سروس کے مطابق عبدالکریم پر غیر ملکی خفیہ ایجنسی کی مدد کرنے کا الزام ہے، جبکہ اصغر پر 22 اگست کو برطانیہ کے خلاف نقصان دہ مقصد کے لیے ممنوعہ مقام میں داخل ہونے کا الزام ہے۔
برطانیہ کی انسداد دہشت گردی پولیس کے سربراہ اسسٹنٹ کمشنر لارنس ٹیلر نے کہا ہے کہ پولیس کے مطابق عبدالکریم جس خفیہ ایجنسی کی مدد کر رہے تھے وہ ایران کی ہے۔ تاہم ایران نے اس معاملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے، اور پولیس نے بھی مبینہ سرگرمی کا مکمل دائرہ کار تاحال ظاہر نہیں کیا ہے۔
ستمبر میں ایئربیس کے باہر گرفتاریاں
یہ کیس 27 ستمبر کی رات سے جڑا ہے، جب راف فیئر فورڈ کے باہر مسلح پولیس اور فوج کے بم ڈسپوزل ماہرین نے علاقے کو گھیر لیا تھا اور درجنوں رہائشیوں کو گھروں سے نکالا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق موقع پر وینوں سے پٹرول کی مقدار ملی تھی، تاہم کوئی دھماکا خیز مواد برآمد نہیں ہوا تھا۔
اصغر کو 27 ستمبر کو ایئربیس کے باہر گرفتار کیا گیا تھا، بعد میں ضمانت پر رہا کیا گیا اور پھر 20 اکتوبر کو دوبارہ گرفتار کیا گیا۔ عبدالکریم کو گزشتہ ہفتے گرفتار کیا گیا۔ دونوں ملزمان کو منگل کو ویسٹ منسٹر مجسٹریٹس عدالت میں پیش کیا گیا۔
راف فیئر فورڈ کیوں اہم ہے
راف فیئر فورڈ انگلینڈ کے مغربی علاقے گلوسٹر شائر میں واقع امریکی فضائیہ کا اڈہ ہے، جسے اس سال ایران کے خلاف جنگ کے دوران امریکی بمبار طیاروں نے استعمال کیا تھا۔ ستمبر میں گرفتاریوں کے بعد امریکی بمبار طیاروں کو سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر وہاں سے ہٹا لیا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق اس کیس میں گرفتار دیگر پانچ افراد تاحال ضمانت پر ہیں اور تحقیقات جاری ہیں۔ اس کے علاوہ ایک 25 سالہ دوہری برطانوی ایرانی شہری کو بھی دوبارہ گرفتاری کے بعد بغیر فرد جرم کے رہا کر دیا گیا، تاہم وہ پہلی گرفتاری کے بعد سے ضمانت پر ہے۔
ایران سے متعلق خدشات پر پولیس کا بیان
اسسٹنٹ کمشنر ٹیلر نے کہا کہ حالیہ مہینوں میں کئی ایسے واقعات دیکھے گئے ہیں جن کے بارے میں پولیس کا ماننا ہے کہ وہ ایرانی ریاست کی ہدایت پر ہوئے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع دیں۔
یاد رہے کہ ملزمان پر عائد الزامات تاحال الزامات ہی ہیں اور عدالت میں ان کا ٹرائل ہونا باقی ہے۔ پولیس نے واضح کیا ہے کہ تحقیقات ابھی جاری ہیں اور مزید گرفتاریاں بھی ہو سکتی ہیں۔
مزید پڑھیں: جرمنی میں کار ہجوم پر چڑھ گئی، 4 سے 5 افراد زخمی
مزید پڑھیں: اسرائیل انتخابات میں تاریخی ٹرن آؤٹ
ماخذ: رائٹرز، ایسوسی ایٹڈ پریس، برطانیہ انسداد دہشت گردی پولیس — خبر 27 اکتوبر 2026 کو شائع ہوئی۔