بلاول بھٹو کا بڑا بیان — دہشت گردی کے خلاف متحد ہو جائیں تو گورنر راج ختم ہو سکتا ہے، فضل الرحمٰن سے کردار کی اپیل
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اگر اپوزیشن دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے لیے تیار ہو اور “ہم کسی منصوبے پر متفق ہو جائیں” تو خیبر پختونخوا میں نافذ گورنر راج اور ایمرجنسی ختم ہو سکتی ہے۔ انہوں نے اتوار کو کراچی میں سانحہ کارساز کی 19ویں برسی کے موقع پر یادگار کارساز کا دورہ کیا، جہاں وہ اپنی بہن آصفہ بھٹو زرداری کے ہمراہ شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے آئے تھے۔
سانحہ کارساز کی 19ویں برسی
ڈان، جیو اور ہم انگلش کے مطابق، 18 اکتوبر 2007 کو بینظیر بھٹو کے وطن واپسی کے جلوس کو نشانہ بنانے والے دو خودکش دھماکوں میں 180 سے زائد افراد جاں بحق اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ بلاول نے کہا یہ سانحہ کبھی بھلایا نہیں جا سکتا، 18 اکتوبر پاکستان کی تاریخ کا سیاہ دن ہے۔ صدر آصف علی زرداری نے بھی شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا۔
فضل الرحمٰن سے کردار کی اپیل
بلاول نے جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے کہا کہ وہ دہشت گردوں کی سرگرمیوں کی کھل کر مذمت کریں اور گورنر راج کے معاملے پر کردار ادا کریں، کیونکہ جے یو آئی (ف) کے کارکن بھی دہشت گرد حملوں میں شہید ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپوزیشن کو دہشت گردی کے خاتمے اور کے پی ایمرجنسی کے بارے میں بات چیت کی دعوت بھی دی۔
وزیراعلیٰ آفریدی پر تنقید
غیر فعال وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر تنقید کرتے ہوئے بلاول نے کہا کہ وہ وفاقی حکومت سے تعاون کے لیے تیار نہیں تھے اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے آمادہ نہیں تھے — انہوں نے دعویٰ کیا کہ آفریدی نے “حلف اٹھایا تھا کہ وہ دہشت گردوں سے نہیں لڑیں گے” (یہ دعویٰ بلاول کا ہے)۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کے پی وزیراعلیٰ دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار نہیں تھے تو پیپلز پارٹی نے آگے بڑھ کر لڑنے کا فیصلہ کیا، اور دونوں ایوانوں کو مل کر دہشت گردی کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مسلح افواج ملک کی سلامتی کے لیے قربانیاں دے رہی ہیں اور “ہم اجتماعی طور پر دہشت گردوں کا مقابلہ کریں گے”۔
نیا نیشنل ایکشن پلان
بلاول نے نئے نیشنل ایکشن پلان کا مطالبہ کیا اور کہا کہ پاکستان ان وقت کے حکمرانوں کی اس فیصلے کی قیمت ادا کر رہا ہے جنہوں نے وہاں حکومت کی تبدیلی کے بعد افغانستان سے دہشت گردوں کو واپس آنے کی اجازت دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ خیبر سے خضدار تک دہشت گرد حملے ہو رہے ہیں، اور ماضی میں پاکستان نے دہشت گردی کو شکست دی تھی مگر اب تشدد کی نئی لہر کا سامنا ہے۔
ذرائع: Dawn، Geo News، Hum English