جنرل سید عامر رضا کی سرحد پار دشمنوں کو سخت وارننگ: “غلط حساب پر تصور سے بڑا جواب ملے گا”

0
اے آئی سے بنی تصویر — پی ایم اے کاکول میں پاسنگ آؤٹ پریڈ، کیڈٹس اور پاکستان کا پرچم (اصل شخصیات کی شباہت نہیں)

کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ جنرل سید عامر رضا نے ہفتہ 17 اکتوبر 2026 کو پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 154 ویں پی ایم اے لانگ کورس، 39 ویں ٹیکنیکل گریجویٹ کورس، 73 ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 28 ویں لیڈی کیڈٹ کورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کے موقع پر سرحد پار دشمنوں کو سخت وارننگ دی۔ انہوں نے کہا کہ “ہماری سرحدوں کے پار جو لوگ دشمنانہ عزائم رکھتے ہیں، ان کے لیے ہمارا مؤقف واضح اور غیر مبہم ہے — ایٹمی ماحول میں تنازعے یا جنگ کی کوئی گنجائش نہیں، اور کسی بھی غلط حساب کتاب کا جواب اقدام کرنے والے کے تصور اور حساب سے کہیں بڑا ہوگا۔”

پی ایم اے کاکول میں تقریب

جنرل عامر رضا تقریب کے مہمان خصوصی اور ریویونگ آفیسر تھے۔ پریڈ میں بنگلہ دیش، عراق، مالدیپ، فلسطین، قطر، سری لنکا، تاجکستان اور یمن کے کیڈٹس بھی پاس آؤٹ ہوئے، جو پاکستان کی فوجی تربیت کے بین الاقوامی اعتماد کا ثبوت ہے۔

جنرل عامر رضا کے اہم ترین بیانات

جنرل رضا نے کہا کہ “پاکستان کی مسلح افواج اپنے مقدس وطن کے ایک ایک انچ کے دفاع کے لیے ہر قیمت پر تیار ہیں” اور “ہم نہ سرحد پار جارحیت برداشت کریں گے اور نہ اپنی خودمختار سرحدوں کی کسی خلاف ورزی کو”۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دشمن “حساب شدہ ڈس انفارمیشن اور بیانیے کی جنگ” کے ذریعے پاکستان کے عوام اور اس کی مسلح افواج کے درمیان دراڑ ڈالنا چاہتے ہیں، اور کیڈٹس کو “بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈے سے محفوظ” رہنے کی تلقین کی۔

راج ناتھ سنگھ کے بیان کا پس منظر

یہ خطاب ایسے وقت میں سامنے آیا جب بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے 15 اکتوبر کو کہا تھا کہ سرحد پار سے “کسی بھی نئی دہشت گرد کارروائی” کا جواب “پچھلی بار سے بھی بڑا حملہ” ہوگا۔ پاکستان کے دفتر خارجہ (ترجمان سجاد حیدر خان) نے اس بیان کو “غیر ذمہ دارانہ” اور بالادستی کی سوچ قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔ جنرل رضا کی وارننگ کو اسی پس منظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

آپریشن سندور اور پراکسی جنگ کا ذکر

جنرل رضا نے (بھارت کے مئی 2025 کے تصادم کو دیے گئے نام) “آپریشن سندور” کو دشمن کے لیے “ناکامی” قرار دیا اور کہا کہ اس کے بعد دشمنوں نے سماجی ہم آہنگی کو توڑنے کے لیے پراکسی دہشت گردی اور غیر روایتی جنگ (سب کنونشنل وارفیئر) کا رخ کیا ہے۔ یہ ان کے اپنے الفاظ ہیں جو تقریب کے خطاب میں کہے گئے۔

کشمیر اور فلسطین پر مؤقف

جنرل رضا نے کہا کہ پاکستان کشمیریوں کی جدوجہد کی ان کی خواہشات اور متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حمایت جاری رکھے گا، اور فلسطینیوں کے لیے پاکستان کی “سفارتی، اخلاقی اور سیاسی حمایت” جاری رہے گی۔ انہوں نے اسلام آباد معاہدے اور مکہ معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کے امن کے عزم کی علامت ہیں۔

پاسنگ آؤٹ ہونے والے کیڈٹس اور اعزازات

تقریب میں اعزازات بھی تقسیم کیے گئے: سوارڈ آف آنر اکیڈمی سینئر انڈر آفیسر محمد جنید جبار (154 ویں پی ایم اے لانگ کورس) کو ملا، صدر کا گولڈ میڈل بٹالین سینئر انڈر آفیسر سید حسن عباس نے حاصل کیا، اور چیف آف ڈیفنس فورسز اوورسیز گولڈ میڈل بنگلہ دیش کے ریاض محمود خان کے نام رہا۔

ٹیکنالوجی اور جدید جنگ کے بارے میں خطاب

جنرل رضا نے کہا کہ تباہ کن ٹیکنالوجی کے تیزی سے پھیلاؤ نے “جدید جنگ کی نوعیت اور حرکیات کو بنیادی طور پر بدل دیا ہے” اور پاکستان کی مسلح افواج “تیز رفتار ملٹی ڈومین تبدیلی” سے گزر رہی ہیں۔ واضح رہے کہ تقریب میں کسی نئے آپریشن یا الرٹ میں تبدیلی کا اعلان نہیں کیا گیا۔

ذرائع: ایکسپریس ٹریبیون، اے آر وائی نیوز، جیو نیوز — 17 اکتوبر 2026

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *