حوثیوں کا ریاض ایئرپورٹ پر پھر میزائل حملہ: سعودی اتحاد نے روکنے کا دعویٰ کیا، عمرہ زائرین خوفزدہ
یمن کے حوثیوں نے بدھ (14 اکتوبر) کی رات ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو ایک بار پھر میزائل سے نشانہ بنایا۔ سعودی قیادت والے اتحاد کا دعویٰ ہے کہ اس نے ریاض کی طرف آنے والا بیلسٹک میزائل روک لیا۔ دارالحکومت میں کئی زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
کیا ہوا
سعودی حکام نے بدھ کو ریاض کے لیے فضائی خطرے کا الرٹ جاری کیا جو بعد میں واپس لے لیا گیا۔ حوثیوں نے ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات پر حملے جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا اور انہیں “جائز فوجی اہداف” قرار دیا۔ ریاض ایئرپورٹ پر پروازیں معطل رہیں، کرائے دوگنے ہو گئے اور اسکول آن لائن کر دیے گئے۔
عمرہ زائرین متاثر
مکہ میں موجود ایک اردنی عمرہ زائر نے رائٹرز کو بتایا کہ انہیں مسلسل حکام کی طرف سے فون الرٹس مل رہے ہیں جس سے شدید بے چینی پھیلی ہے۔ پاکستان سمیت خطے کے ہزاروں عمرہ زائرین اور مسافر براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں۔
پس منظر
ہفتے (10 اکتوبر) کو ریاض ایئرپورٹ کے ڈیپارچر ٹرمینل پر حوثی میزائل حملے میں 13 افراد ہلاک اور 300 زخمی ہوئے تھے۔ منگل کو دھران میں سعودی آرامکو ہیڈکوارٹر پر حملے سے کئی منزلوں میں آگ لگی تھی۔ پاکستان، ترکی، مصر اور سعودی عرب 12 اکتوبر کو مشترکہ بیان میں حملوں کی مذمت کر چکے ہیں۔
ماخذ: رائٹرز، یروشلم پوسٹ