حکومت نے تصدیق کر دی: سہیل آفریدی حفاظتی حراست میں، 8 رہنما زیر حراست — صوابی میں 169 کارکن گرفتار
وفاقی حکومت نے بالآخر باقاعدہ تصدیق کر دی ہے کہ خیبر پختونخوا کے معطل وزیراعلیٰ سہیل آفریدی حفاظتی حراست میں ہیں۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے پیر کو رائٹرز سے گفتگو میں کہا کہ وزیراعلیٰ اور ان کی کابینہ کے بعض ارکان کو اتوار کے روز ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد حفاظتی حراست میں لیا گیا تھا۔
کل 8 رہنما زیر حراست
پشاور پولیس کے ایک سینئر افسر نے ڈان کو بتایا کہ مجموعی طور پر آٹھ افراد حراست میں ہیں جن میں سہیل آفریدی، پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی صدر جنید اکبر اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی شامل ہیں۔ طلال چوہدری کے مطابق جن افراد پر مقدمات ہیں ان پر چارج عائد کر کے ٹرائل کیا جائے گا جبکہ باقی رہنماؤں کو رہا کر دیا جائے گا۔
صوابی میں 169 گرفتاریاں
ڈی آئی جی پشاور کے مطابق صوابی میں کریک ڈاؤن کے دوران 169 پی ٹی آئی کارکن گرفتار کیے گئے۔ یہ گرفتاریاں شیوا اڈہ، یار حسین، رازڑ، صوابی خاص، ٹوپی، لاہور اور گدون سمیت مختلف علاقوں سے عمل میں آئیں اور مزید گرفتاریوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق گرفتار افراد لانگ مارچ کی تیاریوں میں شامل تھے۔ امن چوک اور صوابی انٹرچینج پر بھاری نفری تعینات رہی، تاہم موٹروے اور جی ٹی روڈ ٹریفک کے لیے کھلی رہیں۔
پی ٹی آئی کا مؤقف
پی ٹی آئی گزشتہ روز سے آفریدی کی گرفتاری کا دعویٰ کر رہی تھی جس کی کوئی سرکاری تصدیق موجود نہیں تھی — اب یہ تصدیق سامنے آ گئی ہے، تاہم آفریدی اس وقت کس مقام پر ہیں، اس بارے میں تاحال کوئی سرکاری تفصیل جاری نہیں کی گئی۔ پی ٹی آئی نے لانگ مارچ باضابطہ ختم کرنے سے انکار برقرار رکھا ہے اور ایمرجنسی کو عدالتوں میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔
(ماخذ: ڈان/رائٹرز، دی ایکسپریس ٹریبیون)