خیبر پختونخوا میں گورنر راج: ایپکس کمیٹی کا پہلا اجلاس آج، انتظامیہ میں بڑی تبدیلیاں — تازہ ترین صورتحال

0
خیبر پختونخوا اسمبلی کی عمارت — گورنر راج کے بعد کی صورتحال

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے کی انتظامی اور سیاسی صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے۔

ایپکس کمیٹی کا پہلا اجلاس آج

گورنر فیصل کریم کنڈی نے صوبائی ایپکس کمیٹی کا پہلا اجلاس آج پیر کو طلب کر رکھا ہے جس میں صوبے کی سیکیورٹی صورتحال اور دہشت گردی کے خطرات کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس سے قبل گورنر کی زیر صدارت مشاورتی کونسل اور سیکیورٹی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ پشاور سے کنٹینرز مرحلہ وار ہٹائے جائیں گے اور انٹرنیٹ سروس ضرورت کی بنیاد پر جزوی طور پر بحال کی جائے گی۔

انتظامیہ میں بڑی اکھاڑ پچھاڑ

گورنر راج انتظامیہ نے 18 اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز تبدیل کر دیے ہیں اور پولیس میں بھی بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں، جن میں آئی جی سمیت 18 افسران کے تبادلے شامل ہیں۔ اس سے قبل 11 رکنی مشاورتی کونسل کو مختلف محکموں کے قلمدان بھی سونپے جا چکے ہیں، جو چھ ماہ تک صوبے کے امور چلائے گی۔

سہیل آفریدی کہاں ہیں؟ متضاد دعوے

سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی دستیابی پر اب بھی سوالات برقرار ہیں۔ PTI رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ آفریدی اور جنید اکبر کو گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات عطاءاللہ طرار کا کہنا ہے کہ آفریدی گرفتار نہیں بلکہ حفاظتی تحویل میں ہیں۔ تاحال کسی آزاد ذریعے سے اصل صورتحال کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ PTI کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ بھی کہہ چکے ہیں کہ صوبائی قیادت سے ان کا رابطہ نہیں ہے۔

PTI کا احتجاجی اعلان

دوسری جانب PTI پشاور نے آج دوپہر 12 بجے ہشتنگری جی ٹی روڈ پر پرامن احتجاج کی کال دے رکھی ہے، جبکہ اپوزیشن اتحاد نے گورنر راج کو عدالتوں اور اسمبلیوں میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

آگے کیا ہوگا؟

ایمرجنسی کے اعلان کی توثیق کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس منگل 13 اکتوبر کو طلب کیے گئے ہیں۔ اگر پارلیمنٹ نے توثیق نہ کی تو اعلان دو ماہ میں ختم ہو جائے گا۔ (ماخذ: Dawn، UrduPoint)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *