خیبر پختونخوا کے لیے 100 ارب کے منصوبے منظور
وفاقی حکومت نے پیر 26 اکتوبر 2026 کو خیبر پختونخوا کے لیے 100 ارب روپے سے زائد مالیت کے تین بڑے ترقیاتی منصوبے اقتصادی رابطہ کمیٹی کی ذیلی کمیٹی ایکنک کو منظوری کے لیے بھجوا دیے ہیں۔ یہ فیصلے سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) کے اجلاس میں کیے گئے، جس کی صدارت وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کی۔
سب سے بڑا منصوبہ: آبپاشی کا 69.89 ارب کا منصوبہ
خیبر پختونخوا ریزیلینٹ ایریگیٹڈ ایگریکلچر لائیولی ہڈز ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کی مالیت 69.893 ارب روپے ہے۔ اس منصوبے کے تحت پہور مین کینال کی بحالی، ملکھو ایریگیشن ڈسٹری بیوشن سسٹم کی تعمیر اور پہور ہائی لیول کینال کی توسیع کی جائے گی۔ اس کا مقصد زرعی پیداوار بڑھانا اور دیہی علاقوں میں روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔
اس منصوبے کی مالی معاونت میں ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) 56.133 ارب روپے (20 کروڑ ڈالر) فراہم کرے گا، جبکہ خیبر پختونخوا حکومت 11.692 ارب روپے دے گی۔ زمین کے حصول کے اخراجات الگ سے ادا کیے جائیں گے۔
ضم شدہ اضلاع کے لیے سولر اسکیم
اجلاس نے نئے ضم شدہ اضلاع کے لیے وزیراعظم سولر اسکیم بھی ایکنک کو بھجوائی، جس کی لاگت 13.323 ارب روپے ہے۔ اس اسکیم کے تحت ضم شدہ اضلاع کے گھرانوں کو آف گرڈ سولر توانائی کی سہولت فراہم کی جائے گی، تاکہ بجلی سے محروم علاقوں میں گھروں کو توانائی مل سکے۔
شاہراہ این 45 کی توسیع
ٹرانسپورٹ کے شعبے میں چکدرہ تا تیمرگرہ سیکشن، قومی شاہراہ این 45 کی بہتری اور توسیع کا منصوبہ بھی ایکنک کو بھجوایا گیا ہے۔ 39 کلومیٹر طویل اس منصوبے کی لاگت 17.012 ارب روپے ہے اور اس کی مالی معاونت ایگزم بینک سے غیر ملکی فنڈنگ کے ذریعے ہوگی۔ یہ شاہراہ چکدرہ، تیمرگرہ، دیر اور چترال کو ملاتی ہے اور اس کی بہتری سے تجارت، سڑک کی حفاظت اور کالاش، شندور اور کمراٹ کی وادیوں میں سیاحت کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔
پنجاب کا 85 ارب کا منصوبہ بھی شامل
اسی اجلاس میں پنجاب کے ڈیرہ غازی خان اور راجن پور اضلاع کے لیے انٹیگریٹڈ ہل ٹورنٹ مینجمنٹ (چچر تا میٹھاون) منصوبہ بھی ایکنک کو بھجوایا گیا، جس کی لاگت 85.342 ارب روپے ہے۔ اس میں اے ڈی بی 73.06 ارب روپے اور پنجاب حکومت 12.282 ارب روپے دے گی۔ اس منصوبے کے تحت جدید اسپیت ایریگیشن نظام، سیلاب سے تحفظ کی نہریں، ٹیلی میٹری اور مرکزی اسکاڈا نگرانی کا نظام قائم کیا جائے گا۔
مجموعی طور پر 226 ارب کے منصوبے زیر غور
سی ڈی ڈبلیو پی کے اجلاس میں مجموعی طور پر 14 منصوبوں پر غور کیا گیا، جن کی مجموعی لاگت 226.48 ارب روپے تھی۔ ان میں سے 10 چھوٹے منصوبے، جن کی مالیت 40.9 ارب روپے تھی، سی ڈی ڈبلیو پی نے خود منظور کر لیے، جبکہ بڑے منصوبے ایکنک کو بھجوائے گئے۔ قواعد کے تحت سی ڈی ڈبلیو پی ساڑھے سات ارب روپے تک کے منصوبے خود منظور کر سکتا ہے، اس سے بڑے منصوبے ایکنک کی منظوری کے لیے جاتے ہیں۔
احسن اقبال نے کہا کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا کی ترقی کے عزم پر قائم ہے۔ خیبر پختونخوا کی سیاسی صورتحال پر ہماری حالیہ رپورٹ یہاں پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=2117
خیبر پختونخوا میں تعلیم اور عوامی سہولتوں سے متعلق پشاور ہائیکورٹ کے حالیہ نوٹس کی تفصیل یہاں ملاحظہ کریں: https://niazitvnews.com/?p=1336
ایکنک کی حتمی منظوری کے بعد ہی ان منصوبوں پر عملی کام شروع ہو سکے گا، اور اس کے بعد متعلقہ اضلاع میں تعمیراتی سرگرمیوں کا آغاز متوقع ہے۔
ماخذ: ڈان، ٹریبیون اور دی نیوز کی 27 اکتوبر 2026 کی رپورٹس