سردیوں میں گیس کا بحران — پاکستان ایک ارب ڈالر کی ایل این جی خریدنے پر غور، حتمی فیصلہ شہباز شریف کریں گے
اسلام آباد: پیٹرولیم ڈویژن نے دسمبر، جنوری اور فروری کے دوران گیس کی طلب پوری کرنے کے لیے 10 اسپاٹ ایل این جی کارگو خریدنے کی تجویز دی ہے، جن کی مجموعی مالیت ایک ارب ڈالر سے زائد بنتی ہے۔ تاہم نیشنل کرائسز مینجمنٹ سیل (این سی ایم سی) موجودہ معاہدوں کے تحت سستی سپلائی پر زیادہ انحصار کے حق میں ہے۔ حتمی فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کریں گے۔
ایک ارب ڈالر کا منصوبہ کیا ہے؟
دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق پیٹرولیم ڈویژن کے سینئر حکام کا کہنا ہے کہ سردیوں کے تین ماہ میں گیس کی طلب پوری کرنے کے لیے 10 اسپاٹ کارگو درکار ہوں گے، جبکہ این سی ایم سی کا مؤقف ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر بچانے کے لیے موجودہ سپلائی معاہدوں پر انحصار بڑھایا جائے۔ بین الاقوامی منڈی میں ایل این جی کی قیمت 27 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو سے تجاوز کر چکی ہے اور ڈیلیورڈ لاگت 30 ڈالر تک پہنچ سکتی ہے — یعنی ہر اسپاٹ کارگو پر 10 کروڑ ڈالر سے زائد خرچ آئے گا۔ ایک درمیانی تجویز یہ بھی زیرِ غور ہے کہ 5 اسپاٹ کارگو (تقریباً 50 کروڑ ڈالر) خریدے جائیں اور قطر سے مزید سپلائی کے لیے سفارتی کوششیں تیز کی جائیں۔
قطر کی فورس میجر اور آبنائے ہرمز کا بحران
قطر انرجی کی فورس میجر — جس میں دو بار توسیع ہو چکی ہے — 6 نومبر تک نافذ رہے گی، جس سے معاہدہ شدہ ایل این جی کی فراہمی غیر یقینی کا شکار ہے۔ پاکستان نے 2025 میں اپنی 99 فیصد ایل این جی قطر سے درآمد کی تھی۔ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی ٹریفک جنگ سے قبل کی سطح سے تقریباً 70 فیصد کم ہے اور برطانوی میری ٹائم ایجنسی کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے میں جہازوں پر 12 حملے رپورٹ ہوئے ہیں۔ این سی ایم سی کا دعویٰ ہے کہ فروری 2027 تک موجودہ انتظامات کے تحت 12 سے زائد کارگو 13.37 فیصد برینٹ کی قیمت پر حاصل کیے جا سکتے ہیں — تاہم فورس میجر کی وجہ سے ان کی دستیابی غیر یقینی ہے۔
سردیوں میں گیس کی ضرورت کتنی ہے؟
حکام کے اندازے کے مطابق دسمبر میں تقریباً 9 اور جنوری 2027 میں 11 ایل این جی کارگو درکار ہوں گے۔ سردیوں میں گیس کی طلب پنجاب، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور شمالی علاقوں میں عروج پر ہوتی ہے۔ اکتوبر کا پہلا قطری کارگو (العرش) اینگرو ٹرمینل پر پہنچ چکا ہے جہاں 150 ایم ایم سی ایف ڈی کی شرح سے ری گیسیفکیشن ہو رہی ہے، جبکہ پاکستان گیس پورٹ (پی جی پی ایل) ٹرمینل 9 اکتوبر سے ایل این جی کی کمی کے باعث بند ہے۔ 9 سے 13 اکتوبر کے دوران دونوں ٹرمینلز پر کوئی ری گیسیفکیشن نہیں ہوئی اور بجلی کے شعبے کو صرف 38 ایم ایم سی ایف ڈی گیس ملی۔
عام صارف پر اس کا اثر کیا ہوگا؟
اسپاٹ ایل این جی قطری معاہدے کی قیمت سے دگنی ہے — یعنی بجلی کی پیداواری لاگت بڑھے گی اور صارفین پر ٹیرف کا دباؤ پڑ سکتا ہے۔ اگر معاہدہ شدہ سپلائی میں خلل طویل ہوا تو پاکستان کو مہنگی اسپاٹ خریداری اور بجلی گھروں، کھاد فیکٹریوں اور صنعتوں کو گیس کی سخت تقسیم کی طرف جانا پڑے گا — اور گھریلو صارفین کو سردیوں میں گیس لوڈشیڈنگ کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ووڈ میکنزی کے مطابق پاکستان کو پہلے ہی طلب میں کمی، ایندھن کی تبدیلی اور مقامی گیس کی فراہمی جیسے اقدامات کرنے پڑے ہیں، جس سے 2.5 ملین ٹن سے زائد گیس کی طلب ختم ہو چکی ہے۔
ذرائع: پرافٹ (پاکستان ٹوڈے)، آئل پرائس، اناطولو ایجنسی، جیو نیوز (16 تا 17 اکتوبر 2026)