سعودی عرب نے پاکستان کا 3 ارب ڈالر قرض رول اوور کر دیا
سعودی عرب نے پاکستان کا 3 ارب ڈالر کا قرض رول اوور کر دیا ہے، جس کے بعد یہ رقم فوری طور پر واپس نہیں کرنی پڑے گی۔ وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے 4 نومبر 2026 کو پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو میں یہ اعلان کیا اور بتایا کہ سعودی قرضے کا معاملہ مناسب مدت کے لیے موخر کر دیا گیا ہے۔
اورنگزیب کا اعلان: مزید مدد کی ضرورت نہیں
وزیر خزانہ نے بتایا کہ اس معاملے پر سعودی وزیر خزانہ سے ان کی بہت اچھی ملاقات ہوئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی نوعیت ایسی ہے کہ اس حوالے سے فکر کی کوئی بات نہیں، اور فی الحال پاکستان کو سعودی عرب سے کسی اضافی مالی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک کے پاس اس وقت 3 ماہ کی درآمدات کے برابر زرمبادلہ موجود ہے، جو بیرونی ادائیگیوں کے لیے ایک اہم سہارا ہے۔
یورو بانڈ اور آئی ایم ایف پروگرام
اورنگزیب نے بتایا کہ پاکستان کو ہر سال تقریباً 1.5 ارب یورو کے یورو بانڈز کی ادائیگی کرنی ہوتی ہے، اور حکومت کی کوشش ہے کہ کوئی بھی حکومت ان ادائیگیوں میں مشکل کا شکار نہ ہو۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا ایگزیکٹو بورڈ دسمبر میں اجلاس کر سکتا ہے، تاہم اس کی تاریخ ابھی حتمی نہیں ہوئی۔ آئی ایم ایف بورڈ اجلاس سے پاکستان کے قرض پروگرام کی اگلی قسط کی منظوری متوقع ہے، جو بیرونی مالیاتی پوزیشن کے لیے اہم ہوگی۔
سعودی مالی مدد کا پس منظر
سعودی عرب پاکستان کا دیرینہ مالی شراکت دار ہے اور اسٹیٹ بینک کے پاس سعودی ڈپازٹس پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر کا اہم حصہ ہیں۔ رواں سال اپریل میں سعودی عرب نے اسٹیٹ بینک میں مزید 3 ارب ڈالر جمع کرائے تھے، جبکہ پہلے سے موجود 5 ارب ڈالر کے ڈپازٹس کی مدت بھی بڑھائی گئی تھی۔ نومبر کے اس رول اوور سے پاکستان کی بیرونی مالیاتی پوزیشن کو مزید استحکام ملے گا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے اور علاقائی کشیدگی کے باعث درآمدی بل پر دباؤ ہے۔
معیشت کے لیے اس کا مطلب کیا ہے؟
قرض رول اوور کا مطلب ہے کہ پاکستان کو یہ رقم فوری واپس نہیں کرنی پڑے گی، جس سے زرمبادلہ ذخائر پر دباؤ کم ہوگا اور حکومت کو اپنی مالی منصوبہ بندی کے لیے مزید گنجائش ملے گی۔ وزیر خزانہ کے مطابق پاکستان کو فی الحال سعودی عرب سے اضافی مدد درکار نہیں، جو حکومت کے اس دعوے کی عکاسی کرتا ہے کہ بیرونی کھاتے کی صورتحال قابو میں ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق پائیدار استحکام کے لیے برآمدات، ترسیلات زر اور ٹیکس آمدن میں اضافہ ناگزیر رہے گا۔
متعلقہ خبریں: اقبال ڈے پر بینک 3 دن بند (https://niazitvnews.com/?p=3667)، پی ٹی اے: یوٹیوب کے 9.6 کروڑ صارفین (https://niazitvnews.com/?p=3665) اور خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کا پیکج (https://niazitvnews.com/?p=3635) بھی پڑھیں۔
ماخذ: دنیا نیوز، 24 نیوز، نکتہ، ڈیلی پاکستان — 4 نومبر 2026