سہیل آفریدی کی بازیابی کے لیے پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر — بھائی کا دعویٰ: نقاب پوش مسلح افراد نے سی سی پی او کی موجودگی میں اغوا کیا

0
پشاور ہائی کورٹ کی عمارت — سہیل آفریدی کی بازیابی کی درخواست دائر ہونے کا علامتی منظر

پشاور — سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے بھائی محمد عامر نے منگل 13 اکتوبر کو پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے، جس میں ان کی فوری بازیابی اور ان کے ٹھکانے کی وضاحت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

درخواست میں اغوا کا دعویٰ

درخواست گزار کے مطابق سہیل آفریدی کو پشاور کے کیپٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) کی موجودگی میں نقاب پوش مسلح افراد نے مبینہ طور پر اغوا کیا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ایک منتخب وزیراعلیٰ کا اغوا آئین، قانون اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ سہیل آفریدی کی جان اور آزادی کو شدید خطرہ لاحق ہے اور ان کی مبینہ غیر قانونی حراست آئین پاکستان کے آرٹیکلز 4، 9، 10 اور 14 کی خلاف ورزی ہے۔ درخواست گزار نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے ٹھکانے، انہیں حراست میں رکھنے والوں کی شناخت اور قانونی اختیار کی وضاحت کی جائے، اور مبینہ اغوا کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا حکم دیا جائے۔

پس منظر: ایمرجنسی کے بعد سے حراست میں

سہیل آفریدی اور پاکستان تحریک انصاف کے کئی رہنماؤں کو اتوار کو صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے فوراً بعد حراست میں لیا گیا تھا۔ وفاقی حکومت نے حراست کو “حفاظتی حراست” قرار دیا ہے، جبکہ پی ٹی آئی اسے غیر قانونی گرفتاری کہتی ہے۔

یاد رہے کہ پیر کو پشاور ہائی کورٹ میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو چیلنج کرنے والی ایک اور درخواست بھی دائر ہو چکی ہے، جس میں صدر زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور گورنر فیصل کریم کنڈی کو فریق بنایا گیا ہے۔ پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی آج (بدھ) پارٹی کی جانب سے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

ذرائع: دی پرنٹ (پی ٹی آئی نیوز سروس)، اردو پوائنٹ (13 اکتوبر 2026) — اغوا کا دعویٰ درخواست گزار کا ہے، آزادانہ طور پر تصدیق شدہ نہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *