طوفان ارناب شدید ہو گیا، کل صبح ساحل سے ٹکرائے گا
خلیج بنگال میں بننے والا طوفان ارناب شدت اختیار کر گیا ہے اور بدھ 28 اکتوبر کی صبح آندھرا پردیش کے ساحل سے ٹکرانے کی توقع ہے۔ بھارتی محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) کے مطابق طوفان منگل کو انتہائی شدید طوفانی شکل اختیار کر لے گا، جس کے بعد یہ باپٹلہ اور وشاکھاپٹنم کے درمیان، یانم کے قریب، ساحل عبور کرے گا۔ لینڈ فال کے وقت ہواؤں کی رفتار 115 سے 125 کلومیٹر فی گھنٹہ رہنے کا امکان ہے، جبکہ جھکڑ 140 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتے ہیں۔
طوفان اب کہاں ہے؟
آئی ایم ڈی کی پیر کی صبح کی بلیٹن کے مطابق طوفان مشرقی وسطی اور ملحقہ مغربی وسطی خلیج بنگال کے اوپر موجود تھا اور وشاکھاپٹنم سے تقریباً 650 کلومیٹر مشرق جنوب مشرق میں تھا۔ یہ مغرب کی جانب تقریباً 15 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بڑھ رہا تھا۔ محکمہ نے پیش گوئی کی ہے کہ یہ پیر کی آدھی رات تک شدید طوفانی طوفان اور منگل کو انتہائی شدید طوفانی طوفان بن جائے گا۔ ایک اور بلیٹن میں طوفان کو وشاکھاپٹنم سے تقریباً 540 کلومیٹر مشرق جنوب مشرق اور کاکی ناڈا سے 620 کلومیٹر مشرق جنوب مشرق میں بتایا گیا، جو مغرب شمال مغرب کی جانب 13 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بڑھ رہا تھا۔
کن علاقوں میں شدید بارش کا خطرہ؟
آئی ایم ڈی نے ساحلی آندھرا پردیش اور یانم میں 27 اور 28 اکتوبر کو بعض مقامات پر انتہائی شدید بارش کی وارننگ جاری کی ہے، جبکہ 28 اکتوبر کو اوڈیشہ، 28 اور 29 اکتوبر کو چھتیس گڑھ اور 29 اکتوبر کو مشرقی اتر پردیش میں بھی انتہائی شدید بارش کا امکان ہے۔ اوڈیشہ، ودربھ، تلنگانہ، مشرقی مدھیہ پردیش، مشرقی اتر پردیش، جھارکھنڈ اور بہار میں 27 سے 30 اکتوبر کے دوران بعض مقامات پر بھاری سے بہت بھاری بارش بھی متوقع ہے۔ ساحلی علاقوں میں سمندر کی سطح 1 سے 1.5 میٹر تک بلند ہونے کا خطرہ ہے، جس سے نشیبی علاقوں میں سیلاب کا خدشہ ہے۔
تیاریاں اور انخلا
مرکزی حکومت نے آندھرا پردیش، اوڈیشہ، تلنگانہ، چھتیس گڑھ اور پڈوچیری میں الرٹ جاری کر رکھا ہے اور آفت سے نمٹنے والی ٹیموں کو تیار رکھا ہے۔ ماہی گیروں کو 29 اکتوبر تک متاثرہ سمندری علاقوں سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ آندھرا پردیش اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر پرکھر جین نے کہا ہے کہ آئندہ تین دن انتہائی اہم ہوں گے اور عوام کو چوکس رہنا چاہیے۔ اس سے پہلے آندھرا پردیش میں 4,711 حاملہ خواتین کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے اور 14 اضلاع میں اسکول بند کر دیے گئے ہیں، جبکہ اوڈیشہ میں ماہی گیری اور سیاحت پر پابندی عائد ہے۔
ساحلی علاقوں کے لیے احتیاط
ساحلی اضلاع وشاکھاپٹنم، کاکی ناڈا، گوداوری اضلاع، کرشنا، گنٹور اور باپٹلہ کو ضلعی سطح کی وارننگز پر قریبی نظر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے، کیونکہ طوفان کا راستہ اور شدت اب بھی تبدیل ہو سکتی ہے۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سرکاری ہدایات پر عمل کریں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور سمندر کے قریب نہ جائیں۔ طوفان کے ساحل سے ٹکرانے سے پہلے ہی سمندری حالات خراب ہو جائیں گے اور ساحل کے قریب ہواؤں کی رفتار منگل کی شام تک 90 سے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=2085 اور https://niazitvnews.com/?p=2076
ماخذ: آئی ایم ڈی بلیٹنز، دی اسٹیٹس مین، آؤٹ لک انڈیا اور دی فیڈرل کی 26 اکتوبر 2026 کی رپورٹس