عطا تارڑ کا بڑا دعویٰ: پی ٹی آئی کے کالعدم ٹی ٹی پی سے روابط کے “قابلِ اعتبار شواہد”، ثبوت جلد پیش کریں گے

0
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر پریس کانفرنس کے مائیکروفون

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے منگل کو اسلام آباد میں غیر ملکی صحافیوں کے لیے خصوصی بریفنگ میں دعویٰ کیا ہے کہ حکومت کے پاس “قابلِ اعتبار شواہد” موجود ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے رابطے میں رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان مبینہ روابط کے ثبوت “بہت جلد” عوام اور میڈیا کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔

بریفنگ میں کیا کہا گیا

بریفنگ میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ بھی عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ موجود تھے۔ وزیر اطلاعات نے الزام لگایا کہ صوبائی حکومت نے دہشت گرد گروہوں سے ہمدردی دکھائی اور دہشت گردی کے خلاف لڑنے والے سکیورٹی اہلکاروں کو مناسب مدد فراہم نہیں کی۔ ان کے بقول، پی ٹی آئی کی قیادت نے ایسا بیانیہ فروغ دیا جس سے قانون نافذ کرنے والے ادارے کمزور اور دہشت گرد گروہ مضبوط ہوئے۔

دہشت گردی کے اعداد و شمار

عطا تارڑ نے اپنے دعوے کی حمایت میں اعداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ 2025 میں دہشت گردی کے 3,774 واقعات ہوئے جبکہ ستمبر 2026 تک 2,857 واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق دہشت گردی میں اموات 2021 میں 267 سے بڑھ کر 2025 میں 3,512 تک پہنچ گئیں جبکہ 2026 میں اب تک 2,775 اموات ہو چکی ہیں۔ پولیس اہلکاروں اور تنصیبات پر حملوں میں 168 فیصد اضافہ ہوا۔

این ایف سی فنڈز پر سوال

وزیر اطلاعات نے سوال اٹھایا کہ خیبر پختونخوا کو 2010 سے این ایف سی ایوارڈ کے تحت تقریباً 800 ارب روپے ملے، مگر یہ رقم کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ، سیف سٹی کیمروں، فرانزک لیبارٹریوں اور پولیس کے جدید آلات پر کیوں خرچ نہ کی گئی۔ انہوں نے معدنیات، لکڑی، تمباکو اور سونے کی سرحد پار اسمگلنگ کا بھی ذکر کیا۔

ایمرجنسی کا دفاع

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 232 اور 234 ایک ساتھ لگائے گئے ہیں، اس کی منظوری پارلیمنٹ سے لی جائے گی اور اس کی مدت زیادہ سے زیادہ 6 ماہ ہوگی۔

پی ٹی آئی کا موقف

دوسری جانب پی ٹی آئی نے عسکریت پسندی سے روابط کے الزام کی تردید کی ہے اور وفاقی اقدام پر تنقید کی ہے۔ پارٹی کے سینٹرل میڈیا ڈیپارٹمنٹ کے ایک بیان میں کہا گیا کہ خیبر پختونخوا کے عوام دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر ہیں اور پارٹی اپنے شہدا کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔

آگے کیا ہوگا

حکومت کی جانب سے “ثبوت جلد پیش کرنے” کے اعلان کے بعد یہ معاملہ آنے والے دنوں میں مزید گرم ہونے کا امکان ہے، جبکہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے آج شام ہونے والے اجلاسوں میں بھی اس پر گرما گرم بحث متوقع ہے۔

ذرائع: ایکسپریس ٹریبیون، سماء ٹی وی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *