علی ظفر کا بڑا الزام — “دہشت گردی منتخب حکومت ہٹانے کا بہانہ تھی، ایمرجنسی کا منصوبہ پہلے سے تیار تھا”
اسلام آباد — پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے الزام لگایا ہے کہ حکومت نے دہشت گردی کو بہانہ بنا کر خیبر پختونخوا کی منتخب حکومت کو ہٹایا، اور ایمرجنسی نافذ کرنے کا منصوبہ کافی عرصے سے تیار ہو رہا تھا۔
دنیا نیوز کے پروگرام “دنیا مہر بخاری کے ساتھ” میں گفتگو کرتے ہوئے علی ظفر نے کہا کہ حکومت اندرونی حالات کے نام پر ایمرجنسی لگانے پر غور کر رہی تھی، اور یہ قدم سیاسی طور پر متحرک تھا جس کا مقصد سیاسی حریف کو اقتدار سے ہٹانا تھا۔
حکومت کو ثبوت پیش کرنے کا چیلنج
علی ظفر نے حکومت کو چیلنج کیا کہ وہ اپنے الزامات کے ثبوت عوام کے سامنے پیش کرے، کیونکہ صرف الزامات دعویٰ ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں ہوتے۔ انہوں نے صوبائی حکومت کی قرارداد کے بغیر گورنر راج نافذ کرنے کی قانونی حیثیت پر بھی سوال اٹھایا۔
ان کے بقول آئین وزیراعلیٰ کی گرفتاری کو گورنر راج کے نفاذ کے ذریعے اجازت نہیں دیتا، اور ایسا اقدام غیر آئینی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس اقدام کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کر دی گئی ہے اور پی ٹی آئی قانونی فورمز کے ذریعے حکومت کے اقدامات کو چیلنج کرے گی۔
مذاکرات کی ناکامی پر موقف
حکومت کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے علی ظفر نے کہا کہ پارٹی کے بانی سے ملاقات مذاکرات کی کلیدی شرط تھی۔ انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کے التوا اور ملاقات سے متعلق معاملات پہلے طے ہو چکے تھے۔
مولانا فضل الرحمان کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے ساتھ مذاکرات میں مسائل حل ہو گئے تھے، لیکن بعد میں صورتحال بدل گئی۔ انہوں نے پارٹی کا موقف دہراتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کے اقدامات کے باوجود پیچھے نہیں ہٹے گی اور ایک فرد کی گرفتاری سے تحریک ختم نہیں ہوگی۔
ذرائع: دنیا نیوز (14 اکتوبر 2026) — تمام دعوے علی ظفر کے ہیں