فرانس میں برسوں کا بدترین احتجاج — دو ہلاک، ہزاروں گرفتار، میکرون کا سخت پیغام
فرانس میں مہنگائی اور سرکاری خدمات میں کٹوتی کے خلاف 17 اکتوبر کو پانچ لاکھ سے زائد افراد سڑکوں پر نکل آئے — کئی شہروں میں احتجاج پرتشدد فساد میں بدل گیا۔ غیر ملکی میڈیا کی تازہ رپورٹوں کے مطابق دو افراد ہلاک ہو چکے ہیں — پیرس میں دل کا دورہ پڑنے سے ایک مظاہرین اور نانتس میں گاڑی سے ٹکرانے سے 22 سالہ پولیس اہلکار — جبکہ گرفتاریوں کی تعداد 1800 سے 2400 کے درمیان بتائی جا رہی ہے۔ صدر ایمانوئل میکرون نے اتوار کی شام قوم سے خطاب میں کہا کہ تشدد کا کوئی جواز نہیں اور لوٹ مار کرنے والوں کو سزا کے ساتھ نقصان کا حساب بھی دینا ہوگا۔
17 اکتوبر: لاکھوں مظاہرین سڑکوں پر
مظاہرین مہنگائی میں کمی اور سرکاری خدمات کی بحالی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ احتجاج کے دوران لیموج شہر کا 143 سال پرانا ٹاؤن ہال آگ لگا دیا گیا، دکانوں میں لوٹ مار ہوئی اور متعدد عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ اے ایف پی کے مطابق تقریباً 1500 کاروباری مقامات متاثر ہوئے۔
ہلاکتیں، گرفتاریاں اور زخمی اہلکار
رائٹرز کے مطابق ابتدائی طور پر 1800 گرفتاریاں اور 500 سے زائد زخمی پولیس اہلکار رپورٹ ہوئے، جبکہ 19 اکتوبر کی تازہ رپورٹوں میں گرفتاریاں 2400 اور زخمی اہلکار 1000 کے قریب بتائے گئے ہیں۔ اتوار کو پیرس میں دوبارہ جھڑپیں ہوئیں اور کشیدگی برقرار رہی۔
میکرون کا خطاب — آگے کیا ہوگا؟
صدر میکرون نے اتوار کی شام اپنے خطاب میں احتجاج کے پرامن پہلو کو تسلیم کیا لیکن تشدد کی سخت مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ لوٹنے والوں کو سزا دی جائے گی اور نقصان کا ازالہ بھی ان سے لیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے آئندہ دنوں میں مزید سیکیورٹی اقدامات کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
یہ خبر رائٹرز، جیو نیوز اور اے ایف پی کی رپورٹنگ پر مبنی ہے۔