فرانس میں مہنگائی کے خلاف مظاہرے تشدد میں تبدیل — ساڑھے 5 لاکھ افراد سڑکوں پر، 1200 سے زائد گرفتار، ایپل اور لوئی ووٹاں کے اسٹورز لوٹ لیے گئے

0
اے آئی سے بنی تصویر — شام کے وقت پیرس کی سڑک پر مہنگائی کے خلاف مظاہرہ اور پولیس کی قطار (اصل شخصیات کی شباہت نہیں)

ہفتہ 17 اکتوبر 2026 کو فرانس میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، خراب ہوتی عوامی سہولتوں اور اسکولوں کی بگڑتی صورتحال کے خلاف شروع ہونے والے مظاہروں نے شام تک پرتشدد رخ اختیار کر لیا۔ وزیر داخلہ لاراں نونیز کے مطابق ملک بھر میں تقریباً ساڑھے 5 لاکھ افراد سڑکوں پر نکلے جن میں پیرس میں ایک لاکھ 10 ہزار مظاہرین شامل تھے، جبکہ منتظمین کے دعوے اس سے بھی زیادہ ہیں۔ رات بھر جاری جھڑپوں میں ملک بھر سے 1200 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا اور وزیراعظم سیبستین لیکورنو کے مطابق 150 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔

مظاہروں کی شروعات — طلبہ سے ملک گیر تحریک تک

یہ تحریک طلبہ کی قیادت میں اسکولوں کی خراب صورتحال کے خلاف ریلیوں سے شروع ہوئی تھی۔ چند دنوں میں اس میں ٹریڈ یونینز شامل ہو گئیں اور مطالبات بڑھتے ہوئے رہن سہن کے اخراجات اور عوامی سہولتوں کی بحالی تک پھیل گئے۔ 17 اکتوبر کو پیرس کے ساتھ ساتھ “جی لیٹس” تحریک سے وابستہ گروہوں نے بھی متعدد شہروں میں اپنی الگ مظاہرے کیے، جس سے صورتحال مزید تناؤ میں آ گئی۔

اعداد و شمار: کتنے لوگ، کتنے گرفتار

وزیر داخلہ کے جاری کردہ اعداد کے مطابق ملک بھر میں تقریباً 550,000 افراد نے مظاہروں میں شرکت کی، پیرس میں 110,000 افراد جمع تھے۔ پولیس نے تشدد، لوٹ مار اور آگ لگانے کے الزامات میں 1200 سے زائد افراد کو حراست میں لیا۔ وزیراعظم لیکورنو نے تصدیق کی کہ جھڑپوں میں 150 پولیس اہلکار زخمی ہوئے، جن میں سے کئی کو اسپتال منتقل کیا گیا۔

لوٹ مار: ایپل، لوئی ووٹاں اور ہرمز کے اسٹورز

شام ڈھلتے ہی بورڈو میں روئے سانٹ-کیتھرین پر لوئی ووٹاں اور ایپل کے اسٹورز کو لوٹا گیا، جس کی تصدیق فرانسیسی میڈیا نے اے ایف پی کے حوالے سے کی۔ لیل میں ایپل اسٹور اور مارسیل میں ہرمز بوتیق کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ان کے علاوہ سپر مارکیٹس، فارمیسیوں اور کپڑوں اور کھانے پینے کی دکانوں کو بھی لوٹا گیا۔ پولیس کے مطابق لوٹ مار کرنے والوں میں کچھ منظم گروہ بھی شامل تھے جو مظاہرین کے ہجوم میں گھل مل گئے تھے۔

پیرس سے لیون تک آگ اور تشدد

پیرس میں پلاس دی لا ریپبلک کے قریب گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی۔ لیون میں سیاحوں کے معلوماتی مرکز (ٹورسٹ آفس) کو نذر آتش کر دیا گیا، جسے شہر کے میئر گریگوری ڈوسے نے “المِیہ” قرار دیا۔ لیموج میں تاریخی ٹاؤن ہال کو نقصان پہنچا، جبکہ مارسیل اور لیل کے ٹاؤن ہالوں میں توڑ پھوڑ کی گئی۔ جھڑپیں رات گئے تک جاری رہیں۔

پولیس کا ردعمل: آنسو گیس اور پانی کی توپیں

پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے اور پانی کی توپوں کا استعمال کیا۔ سوشل میڈیا پر پولیس کے لاٹھی چارج کی ویڈیوز تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ وزیر داخلہ نونیز نے کہا کہ حکومت تشدد کرنے والوں کے خلاف “کوئی رعایت نہیں” برتے گی اور گرفتار افراد کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی۔

عالمی ردعمل: ٹرمپ اور جے ڈی وینس کی تنقید

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایکس پر لکھا کہ “مغربی لبرلز نے تنوع اور ہمدردی کے نام پر تیسری دنیا کو فرانس اور دیگر ممالک میں درآمد کیا ہے… اس جنون کو روکو”۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی فرانس کی صورتحال کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ “فرانس انقلابات کے لیے اچھا لگتا ہے”۔ دونوں بیانات پر فرانس میں شدید ردعمل سامنے آیا اور انہیں فرانس کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا گیا۔ (نوٹ: یہاں ٹرمپ کا تبصرہ مذاق کے انداز میں تھا — اسے “انقلاب” کی خبر نہ سمجھا جائے۔)

فرانسیسی حکومت کا موقف

وزیراعظم لیکورنو کی حکومت اس وقت پہلے ہی دباؤ میں ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے لیکن لوٹ مار اور آگ لگانے والے “مظاہرین نہیں، مجرم” ہیں۔ صدر میکرون کی انتظامیہ نے زخمی پولیس اہلکاروں سے اظہار یکجہتی کیا اور کہا کہ عوامی سہولتوں اور مہنگائی پر بات چیت کے دروازے کھلے ہیں۔

پس منظر: فرانس میں مہنگائی کا بحران

فرانس میں گزشتہ برسوں سے رہن سہن کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور عوامی سہولتوں کی حالت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ طلبہ کے اسکولوں کے مسئلے سے شروع ہونے والی تحریک اتنی تیزی سے ملک گیر تحریک بن گئی۔ مبصرین کے مطابق اگر حکومت نے مہنگائی پر قابو پانے کے ٹھوس اقدامات نہ کیے تو احتجاج کا یہ سلسلہ مزید بڑھ سکتا ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کے قارئین کے لیے یہ واقعہ اس لیے بھی اہم ہے کہ مہنگائی کا بحران آج ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔

ذرائع: ہندوستان ٹائمز، نیوز18، اے ایف پی بذریعہ لی پاریسیں — 18 اکتوبر 2026

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *