لاہور سموگ: اے کیو آئی 530، دنیا کا آلودہ ترین شہر
لاہور پیر 2 نومبر کو دنیا کا آلودہ ترین شہر قرار پایا، جب صبح 9 سے 10 بجے کے درمیان آئی کیو ایئر کی عالمی درجہ بندی میں شہر کا ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 530 ریکارڈ کیا گیا اور باریک ذرات پی ایم 2.5 کی مقدار 343 مائیکرو گرام فی مکعب میٹر تک پہنچ گئی۔ اسی درجہ بندی میں مصر کا دارالحکومت قاہرہ 226 اے کیو آئی کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھا، یعنی لاہور کی آلودگی قاہرہ سے دو گنا سے بھی زیادہ تھی۔
صبح کے دوران ریڈنگز میں اتار چڑھاؤ
دن کے دوران مختلف اوقات میں ریڈنگز بدلتی رہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ یہ لائیو مانیٹرنگ کے لمحاتی اعداد ہیں، سالانہ اوسط نہیں۔ صبح 8 بجے لاہور کا اے کیو آئی 535 بھی ریکارڈ کیا گیا، جبکہ صبح سویرے ایک اسنیپ شاٹ میں 509 کی ریڈنگ سامنے آئی تھی۔ پنجاب کے محکمہ تحفظ ماحولیات نے بھی صبح کی شدید آلودگی کی تصدیق کی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہر میں سموگ کی شدت صبح کے اوقات میں سب سے زیادہ رہی۔
پنجاب کے دیگر شہر بھی شدید متاثر
آلودگی صرف لاہور تک محدود نہیں رہی۔ اسی عالمی درجہ بندی کے مطابق گوجرانوالہ کا اے کیو آئی 475، فیصل آباد کا 435، ملتان کا 280 اور سیالکوٹ کا 241 ریکارڈ کیا گیا۔ بعض صبح کے اسنیپ شاٹس میں گوجرانوالہ کی ریڈنگ 606 اور بعد میں 675 تک بھی پہنچی، جبکہ فیصل آباد اور ملتان میں 310، 310 اور سیالکوٹ میں 260 کی ریڈنگ بھی دیکھی گئی۔ یعنی پنجاب کا بڑا حصہ ایک ہی وقت میں خطرناک فضائی آلودگی کی لپیٹ میں تھا۔
فصلوں کی باقیات جلانے کا کردار
سیٹلائٹ مشاہدات کے مطابق یکم سے 29 اکتوبر کے دوران پنجاب میں فصلوں کی باقیات جلانے کے 13,241 مقامات کی نشاندہی ہوئی، جن میں سے تقریباً نصف آخری سات دنوں میں سامنے آئے۔ ماہرین کے مطابق یہ آگ موسمی حالات کے ساتھ مل کر سموگ کو مزید شدید بنا رہی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ صوبائی حکام نے اکتوبر کو پانچ سال میں لاہور کا صاف ترین اکتوبر قرار دیا تھا، مگر نومبر کے آغاز کے ساتھ ہی آلودگی نے خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے۔
صحت پر اثرات اور احتیاطی تدابیر
پاکستان ایئر کوالٹی انیشی ایٹو کی رپورٹ کے مطابق فضائی آلودگی پاکستان میں متوقع عمر میں تقریباً 3.9 سال کی کمی کا باعث بن رہی ہے اور ہر سال تقریباً ایک لاکھ 28 ہزار قبل از وقت اموات سے منسلک ہے۔ پاکستان میں پی ایم 2.5 کی یومیہ حد 35 مائیکرو گرام فی مکعب میٹر مقرر ہے، جبکہ لاہور میں صبح کی مقدار اس سے تقریباً 10 گنا زیادہ تھی۔
ماہرین صحت کی عمومی ہدایات کے مطابق شدید سموگ کے دوران غیر ضروری بیرونی سرگرمیوں سے گریز کریں، باہر نکلتے وقت ماسک پہنیں، گھروں میں کھڑکیاں بند رکھیں، اور سانس، دل یا آنکھوں کی تکلیف محسوس ہونے پر فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ بچے، بزرگ اور سانس کے مریض اس صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، اس لیے ان کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے۔
لاہور سموگ کی صبح کی خبر (اے کیو آئی 509) یہاں پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=3252 ۔ سموگ سیزن کے آغاز کی خبر یہاں پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=1254 ۔
ذرائع: آئی اے این ایس/ڈان کی رپورٹ پر مبنی آسام ٹریبیون اور دیگر بین الاقوامی رپورٹس (2 نومبر 2026)، آئی کیو ایئر کی لائیو درجہ بندی، پاکستان ایئر کوالٹی انیشی ایٹو کی رپورٹ۔