ٹرمپ نیتن یاہو اختلاف: ایران پر حملہ یا مذاکرات؟
امریکی خبر رساں ادارے ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ 3 نومبر کے مڈٹرم انتخابات کے فوراً بعد ایران پر نئے فوجی حملے کیے جائیں، جبکہ ٹرمپ فی الحال مذاکرات کو مزید موقع دینا چاہتے ہیں۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان 31 اکتوبر کو ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو میں یہ اختلاف کھل کر سامنے آیا، جسے ایک امریکی ذریعے نے “سخت” اور ایک اسرائیلی ذریعے نے “براہ راست” قرار دیا۔
ٹیلیفونک گفتگو میں کیا ہوا
رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو کو تشویش ہے کہ مذاکرات جاری رکھنے سے ایران کے جوہری اور فوجی اہداف کے خلاف کارروائی میں تاخیر ہوگی، جبکہ ٹرمپ مذاکرات کو آگے بڑھنے دینا چاہتے ہیں اور ساتھ ہی انتخابات کے بعد بڑی فوجی کارروائی کی تیاری بھی جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ نے آئیووا میں صحافیوں سے گفتگو میں اس کال کو “بہت اچھی” قرار دیا اور تصدیق کی کہ ایران پر بات ہوئی، تاہم تفصیلات نہیں بتائیں۔ وائٹ ہاؤس اور نیتن یاہو کے دفتر نے ایکسیوس کی رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
ٹرمپ نے ہفتے کو یہ بھی کہا تھا کہ ایران سے مذاکرات “ٹھیک جا رہے ہیں” اور انہیں حملے دوبارہ شروع کرنے کی “زیادہ جلدی نہیں” ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا کو ابھی ایران کے ایک یا دو جوہری مقامات کا “خیال رکھنا” باقی ہے، اور خاص طور پر پک ایکس ماؤنٹین کا ذکر کیا، جس کے بارے میں اسرائیلی انٹیلی جنس کا دعویٰ ہے کہ وہاں یورینیم افزودگی دوبارہ شروع ہوئی ہے۔
سفارتکاری کا راستہ بھی جاری
سفارتی محاذ پر بھی سرگرمیاں جاری ہیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے گزشتہ ہفتے ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ محسن رضائی کو خط لکھ کر مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا امکان تلاش کیا، جو کئی ماہ میں تہران سے اعلیٰ ترین امریکی رابطہ قرار دیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب قطری ثالثوں نے یکم نومبر کو دوحہ میں ایرانی حکام سے تیسرے روز بھی ملاقاتیں کیں، جن کا مقصد براہ راست امریکی ایرانی مذاکرات کی بحالی اور جنگ کے خاتمے کا معاہدہ تلاش کرنا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ابھی تک کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہوا اور پیش رفت کا انحصار اس بات پر ہے کہ واشنگٹن تہران کے سوالات کا جواب دے۔ قطر کے ذرائع کے مطابق ایک تجویز پر بات ہو رہی ہے جس کے تحت ممکنہ معاہدے کے دو دن کے اندر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جا سکے گا۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ٹرمپ نے نئے حملوں کا حتمی فیصلہ نہیں کیا اور وہ سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں۔
ایران کا انتباہ اور آگے کیا ہوگا
ایران کی جانب سے بھی سخت پیغامات سامنے آئے ہیں۔ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے مسلح افواج کو ممکنہ حملے کی تیاری کا حکم دیا ہے، جبکہ ایرانی فوج کے ترجمان نے خبردار کیا ہے کہ کوئی نئی جنگ مشرق وسطیٰ سے آگے پھیل سکتی ہے اور پچھلے تنازع سے زیادہ طویل ہو سکتی ہے۔ امریکی میگزین دی اٹلانٹک کے مطابق ٹرمپ کے مشیروں کا کہنا ہے کہ مڈٹرم انتخابات کے فوراً بعد حملوں کا نیا سلسلہ “جلد” شروع ہو سکتا ہے، جبکہ ٹرمپ نے خود کہا ہے کہ ایران تنازع جلد ختم ہوگا، یا تو معاہدے سے یا کسی اور فوجی کارروائی سے۔
یوں 3 نومبر کے امریکی انتخابات اب اس تنازع کے اگلے مرحلے کا اہم سنگ میل بن گئے ہیں: سفارتکاری کامیاب ہوگی یا انتخابات کے بعد فوجی کارروائی کا نیا دور شروع ہوگا، اس کا فیصلہ آنے والے دنوں میں ہوگا۔
ایران کے آبنائے ہرمز دو دن میں کھولنے کے منصوبے کی خبر یہاں پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=3288 ۔ پاکستان افغانستان پر امریکی ثالثی کے خیرمقدم کی خبر یہاں پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=3200 ۔
ذرائع: ایکسیوس کی رپورٹ پر مبنی اکنامک ٹائمز، گلف نیوز، دی اسٹیٹس مین، بزنس ٹوڈے اور ہاریٹز کی رپورٹس (2 نومبر 2026)؛ تمام دعوے منسوب رپورٹنگ کے طور پر پیش کیے گئے ہیں۔