پارلیمنٹ میں کے پی ایمرجنسی پر گرما گرم بحث — قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی، گوہر کو بولنے کی اجازت نہ ملی، اپوزیشن کا پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر احتجاج

0
سینیٹ کا ایوان — ایوان بالا میں اپوزیشن کی قرارداد کا علامتی منظر

اسلام آباد — خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ پر منگل کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں گرما گرم بحث ہوئی۔ قومی اسمبلی کا اجلاس رکن کی وفات کی وجہ سے نمازِ جنازہ کے بعد ملتوی کر دیا گیا، جبکہ سینیٹ میں اپوزیشن اور حکومت کے درمیان سخت لفظی جنگ دیکھنے میں آئی۔

قومی اسمبلی: گوہر کو بولنے کی اجازت نہ ملی

قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا۔ رکن اسمبلی محمود بشیر ورک کی وفات کی وجہ سے پارلیمانی روایات کے تحت پہلے دن کی کارروائی نمازِ جنازہ تک محدود رہی اور اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔

پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر گوہر علی خان نے خیبر پختونخوا کے حالات پر بات کرنے کی اجازت مانگی لیکن سپیکر نے ان کی مائیکروفون بند کر دی۔ سپیکر ایاز صادق نے کہا کہ مذاکرات کے دوران پی ٹی آئی کو کافی کچھ پیش کیا گیا تھا مگر وہ لینے کے لیے تیار نہ تھی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ بدھ کو سیاسی بحث کی اجازت ہوگی۔ اس کے بعد اپوزیشن ارکان نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر احتجاج کیا۔

اجلاس کے آغاز میں سپیکر نے مسلم لیگ ن کے رکن ملک منیر اقبال چنڑ سے حلف بھی لیا، جنہوں نے بہاولپور سے اپنے والد مرحوم کی نشست پر کامیابی حاصل کی تھی۔

سینیٹ میں سخت بحث: علی ظفر، اسحاق ڈار اور محسن نقوی آمنے سامنے

سینیٹ میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ محض انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ پاکستان کے آئین کا امتحان ہے۔ ان کے بقول آئین کو بحران میں ڈھال بننا چاہیے، بحران کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 232 ایمرجنسی کا اختیار ہے، سیاسی ہتھیار نہیں، اور حکومت کو ثابت کرنا ہوگا کہ آئینی شرائط واقعی پوری ہوئی ہیں۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے جواب میں کہا کہ وفاقی کابینہ نے گزشتہ ہفتے درست فیصلہ کیا تھا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ سیاسی مفاہمت کا عمل ختم ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن دونوں نے پی ٹی آئی سے مفاہمت کی کوشش کی مگر ناکام رہے۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمان کی ثالثی کے حوالے سے کہا کہ جب وہ مذاکرات کے تعطل کو توڑنے آئے تو حالات بہت آگے بڑھ چکے تھے۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ ایمرجنسی کے نفاذ میں آئین کی خلاف ورزی نہیں ہوئی اور حکومت نے تمام طریقہ کار پر سختی سے عمل کیا۔ ان کے بقول حکومت نے 10 اکتوبر کو پی ٹی آئی قیادت سے رابطہ کیا تھا اور اگر معاہدہ ہو جاتا تو یہ قدم نہ اٹھایا جاتا۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ حکومت نے مسودے میں چھ ترامیم کی تھیں جو وزیراعلیٰ کو بھیجا گیا، جنہوں نے اسے مراد سعید کو بھیج دیا جس کے بعد معاملہ خراب ہوا۔

اپوزیشن کا ردعمل اور آئندہ کی صورتحال

اپوزیشن رہنما علامہ راجہ ناصر عباس نے 11 اکتوبر کو “سیاہ دن” قرار دیا اور سوال اٹھایا کہ اگر نظام ہی ناکام ہو گیا تھا تو ایمرجنسی صرف خیبر پختونخوا میں کیوں نافذ کی گئی جبکہ بلوچستان کی صورتحال بھی اتنی ہی سنگین ہے۔

ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی اور سینیٹ کے آج (بدھ) کے اجلاسوں میں آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کی توثیق کی قراردادیں پیش کی جائیں گی، جبکہ جمعرات 15 اکتوبر کو مشترکہ اجلاس میں آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کی توثیق ہوگی۔

ذرائع: ڈان، 24 نیوز، دنیا نیوز (14 اکتوبر 2026)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *