پاکستان سری لنکا فائنل: ہیسن کو بڑے کھلاڑیوں سے امید
پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ون ڈے ٹرائی سیریز کا فائنل ہفتہ 31 اکتوبر 2026 کو لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔ پاکستان کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ فائنل میں ٹیم کے بڑے کھلاڑی آگے آ کر کارکردگی دکھائیں گے، اور ٹیم اب تک اپنا بہترین کھیل پیش نہیں کر سکی، جسے وہ فائنل کے لیے بچا کر رکھ رہی ہے۔
ہیسن نے 29 اکتوبر کو لاہور میں ایل سی سی اے گراؤنڈ میں ٹیم کی ٹریننگ کے موقع پر پی سی بی ڈیجیٹل سے گفتگو میں کہا کہ گزشتہ دو ہفتے مجموعی طور پر اچھے رہے ہیں، اور چند اہم کھلاڑیوں کی شراکت کے بغیر لگاتار تین فتوحات حاصل کرنا حوصلہ افزا علامت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیم نے اچھی کرکٹ کھیلی ہے، لیکن وہ اب تک پرفیکٹ نہیں رہی، اور امید ہے کہ بہترین کھیل فائنل میں نظر آئے گا۔
فائنل تک کا سفر
پاکستان نے ٹرائی سیریز کا آغاز سری لنکا کے خلاف 37 رنز کی فتح سے کیا تھا، جس میں سلمان علی آغا کی سنچری نمایاں رہی۔ اس کے بعد پاکستان نے انگلینڈ کو 87 رنز سے شکست دی، اور پھر دوسری بار انگلینڈ کے خلاف شاداب خان کی ناقابل شکست سنچری کی بدولت ایک وکٹ سے سنسنی خیز فتح حاصل کر کے فائنل میں جگہ پکی کی۔
تاہم لیگ مرحلے کے آخری میچ میں پاکستان کو سری لنکا کے ہاتھوں آٹھ وکٹوں سے شکست ہوئی، جب پوری ٹیم صرف 110 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ دلشان مدوشنکا نے 5 وکٹیں حاصل کیں اور کامینڈو مینڈس نے ناقابل شکست 62 رنز بنا کر سری لنکا کو آسان فتح دلا دی۔ یہ شکست فائنل سے قبل پاکستان کے لیے ایک وارننگ ثابت ہوئی ہے۔
سری لنکا کی فارم
سری لنکا فائنل میں بھرپور اعتماد کے ساتھ اترے گا۔ اس نے راولپنڈی میں انگلینڈ کے 429 رنز کے جواب میں 430 رنز کا ہدف حاصل کر کے ون ڈے تاریخ کی دوسری بڑی کامیاب رنز چیس مکمل کی تھی، اور پھر پاکستان کو 110 رنز پر آؤٹ کر کے اپنی بولنگ کی طاقت بھی دکھا دی۔ سری لنکا کی ٹیم اسی گراؤنڈ پر فائنل کھیلے گی جہاں اس نے پاکستان کو شکست دی تھی، جو اس کے لیے نفسیاتی برتری کا باعث ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب جمعرات 29 اکتوبر کو لاہور میں انگلینڈ اور سری لنکا کے درمیان لیگ کا آخری میچ کھیلا جا رہا ہے، جس میں انگلینڈ نے بین ڈکٹ کی 167 رنز کی اننگز کی بدولت 386 رنز بنائے۔ یہ میچ فائنل کی دوڑ پر اثر انداز نہیں ہوگا، کیونکہ دونوں فائنلسٹ پہلے ہی طے ہو چکے ہیں اور انگلینڈ تینوں میچ ہار کر ایونٹ سے باہر ہو چکا ہے۔
کن کھلاڑیوں پر نظر ہوگی؟
پاکستان کے لیے سب سے بڑا سوال ٹاپ آرڈر کی فارم ہے۔ بابر اعظم نے اس سیریز میں چار میچوں میں 118 رنز بنائے ہیں، جبکہ فخر زمان تین میچوں میں صرف 16 رنز بنا سکے ہیں۔ سلمان علی آغا نے 142 رنز بنائے ہیں جن میں ناقابل شکست 105 رنز شامل ہیں، اور حسن نواز 229 رنز کے ساتھ ٹیم کے سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی ہیں۔ ہیسن نے خاص طور پر تجربہ کار بلے بازوں پر اعتماد ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ بڑے میچ میں بڑے کھلاڑی ہی فرق ڈالتے ہیں۔
سری لنکا کی جانب سے کامینڈو مینڈس اور بولنگ اٹیک، خاص طور پر مدوشنکا، پاکستان کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہوں گے۔ قذافی اسٹیڈیم کی پچ عام طور پر بلے بازی کے لیے سازگار سمجھی جاتی ہے، اور یہاں بڑے اسکور بنتے رہے ہیں، اس لیے فائنل میں بھی ایک بڑا مقابلہ متوقع ہے۔
فائنل کیوں اہم ہے؟
یہ فائنل پاکستان کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کہ ٹیم ہوم گراؤنڈ پر کھیل رہی ہے اور شائقین کی بڑی تعداد کی حمایت حاصل ہوگی۔ سری لنکا کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ اسی سیریز میں پاکستان کو دوسری بار شکست دے کر ٹرافی اپنے نام کرے۔ دونوں ٹیموں نے اس سیریز میں ایک ایک بار ایک دوسرے کو شکست دی ہے، اس لیے فائنل فیصلہ کن معرکہ ہوگا۔
شائقین کو فائنل میں ایک کانٹے دار مقابلے کی توقع ہے، جس میں پاکستان کی بیٹنگ
کی بحالی اور سری لنکا کی بولنگ کی فارم آمنے سامنے ہوں گی۔
مزید تفصیل کے لیے یہ بھی پڑھیں: ڈکٹ کی 167، انگلینڈ نے سری لنکا کو 387 رنز کا ہدف دیا اور ڈکٹ کی سنچری، لاہور میں انگلینڈ کی بڑی بیٹنگ۔
ذرائع: جیو سوپر، کرکٹر ڈاٹ آئی او، سکس سکس لائیو — 29 اکتوبر 2026۔