پیٹرول 7.06 روپے سستا، نئی قیمت 362 روپے فی لیٹر
وفاقی حکومت نے 5 نومبر 2026 کے لیے پیٹرول کی قیمت میں 7.06 روپے فی لیٹر کمی کر دی ہے، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 362 روپے فی لیٹر مقرر ہو گئی ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمت میں 3.71 روپے فی لیٹر کمی کی گئی ہے اور ڈیزل اب 387.81 روپے فی لیٹر میں ملے گا۔ نئی قیمتیں صرف جمعرات، 5 نومبر کے لیے نافذ ہوں گی۔
نئی قیمتیں کیا ہیں؟
پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت 369.06 روپے سے کم ہو کر 362 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے، یعنی 7.06 روپے کی کمی۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 391.52 روپے سے کم ہو کر 387.81 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے، یعنی 3.71 روپے کی کمی۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے واضح کیا ہے کہ یہ نظرثانی شدہ قیمتیں 5 نومبر کے لیے ہی مؤثر ہیں۔
مسلسل دوسرے دن کمی
یہ کمی ایک دن پہلے کی کمی کے تسلسل میں آئی ہے۔ 4 نومبر کے لیے حکومت نے پیٹرول 5.45 روپے اور ڈیزل 3.68 روپے فی لیٹر سستا کیا تھا، جس کے بعد قیمتیں بالترتیب 369.06 اور 391.52 روپے فی لیٹر ہو گئی تھیں۔ یوں دو دن میں پیٹرول مجموعی طور پر 12.51 روپے فی لیٹر سستا ہو چکا ہے۔
روزانہ قیمتوں کا نیا نظام
حکومت نے عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ کے پیش نظر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ جائزہ لینے کا نظام اپنایا ہے۔ اس سے پہلے ہفتہ وار جائزہ ہوتا تھا، لیکن مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے بعد عالمی تیل کی قیمتوں میں تیزی سے تبدیلی کے باعث روزانہ نظام لایا گیا تاکہ عالمی قیمتوں میں کمی یا اضافہ صارفین تک جلد پہنچ سکے۔ اوگرا نے روزانہ پیٹرولیم قیمتیں اپنی ویب سائٹ پر شائع کرنا بھی شروع کر دی ہیں تاکہ شفافیت بڑھے۔
عالمی منڈی میں خام تیل سستا
قیمتوں میں کمی کے پیچھے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نرمی بھی ایک وجہ ہے۔ 4 نومبر کو برینٹ خام تیل کی قیمت 1.75 ڈالر کمی سے 101.85 ڈالر فی بیرل اور امریکی ڈبلیو ٹی آئی 1.18 ڈالر کمی سے 94.91 ڈالر فی بیرل پر آ گیا، کیونکہ سرمایہ کاروں نے امریکہ اسرائیل ایران جنگ اور امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج کے اثرات کا جائزہ لیا۔
ریفائنریز کا 15 ارب روپے کا بوجھ
حکومت نے پیر کو اعلان کیا تھا کہ آئل ریفائنریز ماہانہ 15 ارب روپے کا بوجھ برداشت کریں گی، جس سے پیٹرول عالمی منڈی کی قیمت سے 15 روپے سستا فروخت ہو سکے گا۔ یہ اقدام امریکہ اسرائیل ایران جنگ کے دوران صارفین کو ریلیف دینے کے لیے کیا گیا۔ اس کے علاوہ 17 ستمبر کو حکومت نے موٹر سائیکلوں، رکشوں اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے فی لیٹر 100 روپے کی خصوصی رعایت کی اسکیم بھی متعارف کرائی تھی، جس سے تقریباً ایک کروڑ 18 لاکھ مستفید کنندگان کو فائدہ پہنچنے کا تخمینہ ہے۔
صارفین کے لیے کیا مطلب ہے؟
موٹر سائیکل اور چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کے لیے دو دن کی کمی کا مطلب فی ٹینک نمایاں بچت ہے، جبکہ ڈیزل کی کمی سے ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات میں بھی کچھ نرمی آ سکتی ہے۔ تاہم قیمتیں روزانہ تبدیل ہو رہی ہیں، اس لیے کل کی قیمت آج کی قیمت سے مختلف ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=3518
مزید پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=3635
ذرائع: ایکسپریس ٹریبیون، جیو نیوز، 4 نومبر 2026۔