پیٹرولیم لیوی: شہباز شریف آج حافظ نعیم سے ملیں گے

0

وزیراعظم شہباز شریف آج اسلام آباد میں جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان سے ملاقات کریں گے۔ ملاقات میں پیٹرولیم لیوی کے خاتمے، پیٹرول کی قیمتوں میں ممکنہ کمی اور عوام کو ریلیف دینے کی تجاویز پر بات چیت ہوگی۔ یہ ملاقات وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں آج سہ پہر طے ہے اور اس میں دونوں جانب کے مذاکراتی وفود شریک ہوں گے۔

ملاقات میں کون کون شریک ہوگا؟

جماعت اسلامی کی جانب سے نائب امیر لیاقت بلوچ اور مذاکراتی ٹیم کے دیگر ارکان شریک ہوں گے جبکہ حکومت کی جانب سے وفاقی وزیر احسن اقبال، علی پرویز ملک اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثناءاللہ ملاقات میں موجود ہوں گے۔ جماعت اسلامی کے ترجمان کے مطابق حافظ نعیم الرحمان ایک وفد کے ہمراہ وزیراعظم سے ملیں گے۔

لیوی میں بتدریج کمی پر اتفاق کی اطلاعات

ذرائع کے حوالے سے میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم سے ملاقات سے قبل جماعت اسلامی اور حکومتی کمیٹیوں کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد پیٹرولیم لیوی میں بتدریج کمی کے طریقہ کار اور فریم ورک پر بنیادی اتفاق رائے ہو گیا ہے۔ ان رپورٹس کے مطابق دونوں فریق اس بات پر متفق ہیں کہ پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کم کر کے عوام کو فوری ریلیف دیا جائے اور اس سلسلے میں تجاویز کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ تاہم ابھی تک لیوی کے خاتمے یا پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کا کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے۔

لانگ مارچ کیوں موخر ہوا تھا؟

جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی کے خلاف اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا لیکن وزیراعظم کی جانب سے رابطہ کرنے اور مذاکرات کی دعوت دینے کے بعد مارچ کو موخر کر دیا گیا تھا۔ جماعت اسلامی کی ٹیکنیکل ٹیم نے حکومت کو پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی ختم کرنے کی تجویز دی ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر نے گزشتہ روز خبردار کیا تھا کہ اگر نومبر کے وسط تک لیوی ختم نہ ہوئی تو اسلام آباد پر مکمل مارچ کیا جائے گا۔ اس انتباہ کی تفصیل یہاں پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=2159 جبکہ پیٹرول اور ڈیزل کی تازہ قیمتوں اور کفایت شعاری اقدامات کی خبر یہاں موجود ہے: https://niazitvnews.com/?p=2181

حافظ نعیم کا موقف کیا ہے؟

ڈان اخبار کے مطابق حافظ نعیم الرحمان نے پیر کو منصورہ لاہور میں پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ اگر وزیراعظم نے لیوی ختم نہ کی تو مزید کوئی ملاقات نہیں ہوگی اور جماعت اسلامی سخت حکمت عملی اپنائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا یہ موقف درست نہیں کہ اس کے پاس لیوی ختم کرنے کی مالی گنجائش نہیں ہے، اور آئی ایم ایف معاہدہ لیوی کے خاتمے سے نہیں روکتا۔ انھوں نے حکومتی پیٹرول ریلیف پیکیج کو بھی ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ تقریباً ڈیڑھ کروڑ موٹر سائیکلوں، لاکھوں کاروں اور پبلک ٹرانسپورٹ کے صارفین کو کور نہیں کرتا۔

آج کی ملاقات کا نتیجہ یہ طے کرے گا کہ حکومت پیٹرولیم لیوی کے معاملے میں عوام کو کتنا ریلیف دیتی ہے اور کیا جماعت اسلامی کا اسلام آباد مارچ مکمل طور پر ٹل جاتا ہے یا نومبر کے وسط میں پھر سامنے آتا ہے۔

ماخذ: دنیا نیوز، 24 نیوز ایچ ڈی، اردو پوائنٹ، ڈان

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *