ڈی جی آئی ایس پی آر کا بڑا انٹرویو — حوثی حملوں کے بعد سعودی عرب کو “جو بھی مدد درکار” فراہم کی جا رہی ہے، یمن کی درخواست پر غور ممکن
راولپنڈی، 19 اکتوبر — ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے لیے “جو بھی مدد درکار ہے” فراہم کر رہا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی جانب سے براہِ راست فوجی مدد کی کوئی باضابطہ درخواست موصول ہوئی تو حکومتِ پاکستان اس کا جائزہ لے گی۔ یہ بات انہوں نے انڈیپینڈنٹ عربیہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی جو اتوار کو نشر ہوا۔
انٹرویو کی اہم باتیں
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ان کے علم کے مطابق یمن کی حکومت کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ درخواست موصول نہیں ہوئی۔ “اگر کوئی درخواست آتی ہے تو اس کا جائزہ لینا اور اس کا جواب دینا حکومتِ پاکستان کا کام ہے۔” انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سب سے بڑھ کر حرمین شریفین کی حفاظت پاکستان کے لیے اولین ترجیح اور “غیرمذاکراتی” معاملہ ہے۔ ان کے الفاظ میں: “جو بھی مدد اس مقصد کے لیے درکار ہے، وہ فراہم کی جا رہی ہے اور کی جاتی رہے گی” — البتہ کسی بھی فوجی اتحاد کی طرح مدد کی نوعیت اور مقدار کو عام طور پر ظاہر نہیں کیا جاتا۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی اجتماعی روک تھام
لیفٹیننٹ جنرل چوہدری نے خبردار کیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے اور مشرقِ وسطیٰ میں فوجی تصادم ہوا تو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے (ایم جے ڈی اے) کی اجتماعی روک تھام کا نظام حرکت میں آئے گا۔ ان کے مطابق: “اگر ہم کسی مذاکراتی نتیجے تک نہ پہنچ سکے اور یہ فوجی تصادم میں بدل گیا تو مکہ اتحاد کی اجتماعی روک تھام کا یہ آلہ یقینی طور پر حرکت میں آئے گا، جیسا کہ یہ آ رہا ہے۔” انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ تینوں ممالک کی مشترکہ سوچ کی نمائندگی کرتا ہے، اور پاکستان اپنی فوجی تعیناتیوں، بیانات اور عملی اقدامات کے ذریعے واضح اشارے دے رہا ہے کہ یہ روک تھام پہلے ہی عمل میں آ چکی ہے۔
پس منظر: حوثی حملے اور معاہدہ
یاد رہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر 7 اگست کو مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاع کے سربراہی اجلاس کے دوران دستخط ہوئے تھے۔ اس معاہدے کے تحت تینوں میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا۔ حالیہ ہفتوں میں یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھی ہے، جس کے تناظر میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا یہ انٹرویو خاص اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں گلیوں سے لے کر سیاسی و فوجی قیادت تک ہر سطح پر حوثی حملوں پر “غصے” کا ردعمل ہے، اور مقدس مقامات کی سلامتی پر “کوئی اگر مگر” نہیں ہو سکتا۔
ذرائع: ڈان، جیو نیوز، اے آر وائی نیوز (19 اکتوبر 2026)