کل کا فیصلہ کن دن: بیرسٹر گوہر پشاور ہائی کورٹ جائیں گے، پارلیمنٹ میں ایمرجنسی کی منظوری کا ووٹ ہوگا
منگل 13 اکتوبر خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے معاملے پر فیصلہ کن دن ثابت ہوگا: ایک طرف پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کریں گے، دوسری طرف قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاسوں میں ایمرجنسی کی منظوری کا ووٹ ہوگا، جبکہ اپوزیشن نے ضلعی سطح پر پرامن جمہوری جدوجہد شروع کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔
بیرسٹر گوہر کا اعلان
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ وہ منگل کو ذاتی طور پر پشاور ہائی کورٹ جائیں گے اور ایمرجنسی و گورنر راج کو چیلنج کریں گے۔ انہوں نے 11 اکتوبر کو جمہوریت کی تاریخ کا سیاہ دن قرار دیا اور کہا کہ لانگ مارچ باضابطہ طور پر ختم نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق اسی دن پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بھی ہوگا جس میں پارلیمنٹ کے اندر احتجاج کے طریقہ کار کا فیصلہ کیا جائے گا۔ پریس کانفرنس میں اپوزیشن رہنما محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس بھی موجود تھے۔
اچکزئی: ضلعی سطح پر جدوجہد شروع ہوگی
محمود خان اچکزئی نے اعلان کیا کہ اپوزیشن منگل سے ضلعی سطح پر پرامن جمہوری جدوجہد کا آغاز کرے گی اور اس سلسلے میں آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بھی بلائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم بات چیت وزیراعظم ہاؤس یا اسپیکر کے چیمبر کی بجائے کسی ذاتی رہائش گاہ پر ہونی چاہیے۔
پارلیمنٹ میں ووٹ کیوں ضروری ہے؟
آئین کے تحت ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی منظوری لازم ہے۔ اگر منظوری نہ ملی تو ایمرجنسی ختم ہو جائے گی؛ منظوری کی صورت میں یہ زیادہ سے زیادہ چھ ماہ تک برقرار رہ سکتی ہے۔ اسی لیے منگل کے اجلاس سیاسی طور پر انتہائی اہم ہیں۔
پس منظر
وفاقی کابینہ کی منظوری اور صدر آصف علی زرداری کے دستخط کے بعد 11 اکتوبر کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا گیا تھا۔ گورنر فیصل کریم کنڈی 11 رکنی مشاورتی کونسل کے ساتھ صوبے کا انتظام چلا رہے ہیں، جبکہ سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سمیت پی ٹی آئی کے 8 رہنما حفاظتی حراست میں ہیں، جس کی تصدیق وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے خود کی ہے۔
ماخذ: ڈان، 24 نیوز ایچ ڈی