ہیبرون میں اسرائیلی فوجی آپریشن شروع، مکانات مسمار
اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے کے شہر ہیبرون میں کئی روز تک جاری رہنے والا فوجی آپریشن شروع کر دیا ہے۔ یہ آپریشن جمعہ کو ہیبرون کے قریب فائرنگ کے واقعے کے بعد شروع کیا گیا جس میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک اور تین زخمی ہوئے تھے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق آپریشن میں تلاشی، مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ، اسلحے کی برآمدگی اور عمارتوں کی مسماری شامل ہے۔
جمعہ کا حملہ — دو فوجی ہلاک، تین زخمی
اسرائیلی فوج کے مطابق جمعہ کی صبح ہیبرون کے باہر یہودا جنکشن کے قریب فرش الہوا چیک پوائنٹ پر دو فلسطینی مسلح افراد نے فوجیوں پر فائرنگ کی۔ فائرنگ کا تبادلہ تقریباً 20 منٹ جاری رہا جس کے بعد دونوں حملہ آور مارے گئے۔ اس واقعے میں اسٹاف سارجنٹ رون یوناتن روئٹمین اور سارجنٹ یوول شائی سویلم ہلاک ہوئے جبکہ تین دیگر فوجی زخمی ہوئے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق دونوں حملہ آوروں کی شناخت ہیبرون کے رہائشی فراس اور حمودہ الجعبہ کے طور پر ہوئی ہے، اور ان کے پاس ایک ایم فور رائفل اور ایک ہینڈگن تھی۔
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نتن یاہو نے اسی روز ہیبرون کا دورہ کیا اور فوجیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے “اپنے جسموں سے دہشت گرد حملہ روکا”۔ نتن یاہو نے ہیبرون اور حلحول شہروں کی ناکہ بندی اور پورے مغربی کنارے کی مکمل بندش کا حکم بھی دیا تھا۔
ہیبرون آپریشن — تلاشی، مسماری اور نقل مکانی
جمعہ کی رات جاری کردہ مشترکہ بیان میں اسرائیلی فوج اور داخلی سیکیورٹی ایجنسی شن بیٹ نے کہا کہ فوجی “دہشت گرد انفراسٹرکچر اور اسلحہ تلاش کرنے اور ختم کرنے” کے لیے ہیبرون کے علاقے میں باریک بینی سے تلاشی لے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق یہ آپریشن “اس علاقے تک محدود ہے جہاں سے دہشت گردوں نے کارروائی کی تھی” اور کئی روز تک جاری رہنے کی توقع ہے۔
سی جی ٹی این کے مطابق اسرائیلی فوج نے جمعہ کو ہیبرون کے ایک محلے سے رہائشیوں کو نکالنا اور عمارتیں مسمار کرنا شروع کر دیں۔ نتن یاہو نے کہا ہے کہ فوج اس علاقے کو “مکمل طور پر تبدیل” کر دے گی اور 1967 کی چھ روزہ جنگ کے بعد سے مغربی کنارے میں “ایسا وسیع آپریشن” زیر غور ہے جو اب تک نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ “آپریشن راستے میں ہے” اور اس کا وقت فوج طے کرے گی۔
اقوام متحدہ کی تشویش اور حماس کا ردعمل
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک نے کہا ہے کہ سیکریٹری جنرل مغربی کنارے کی بندش اور ہیبرون میں مکانات کی مسماری اور ممکنہ نقل مکانی کی خبروں پر “گہری تشویش” میں مبتلا ہیں۔
دوسری جانب حماس نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کیے بغیر اسے “بہادرانہ کارروائی” قرار دے کر سراہا اور حامیوں سے مزید حملے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ واقعہ اسرائیل کے پارلیمانی انتخابات سے صرف چند روز قبل پیش آیا ہے — اسرائیلی ووٹر منگل 27 اکتوبر کو ووٹ ڈالیں گے، اور انتخابی مہم میں سیکیورٹی مرکزی موضوع بنی ہوئی ہے۔
یہ پیش رفت جمعہ کے حملے کے بعد مغربی کنارے کی بندش کے حکم کا تسلسل ہے، جس کے تحت ہیبرون کی ناکہ بندی پہلے ہی جاری تھی۔ اب زمینی آپریشن کے آغاز سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
متعلقہ خبریں: مغربی کنارے کی بندش کے حکم کے لیے یہ رپورٹ https://niazitvnews.com/?p=1579 اور خطے کی صورتحال پر چار ملکی مشترکہ بیان کے لیے یہ خبر https://niazitvnews.com/?p=1621 بھی دیکھیں۔
ذرائع: ہارٹز، اے ایف پی، سی جی ٹی این، ایسوسی ایٹڈ پریس۔