بائنانس ہیک: ایف بی آئی نے شمالی کوریا کو ذمہ دار قرار دیا

0

امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) نے کہا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنانس سے 6.3 ارب ڈالر سے زائد کی کرپٹو کرنسی کی چوری کے پیچھے شمالی کوریا کے سرکاری سرپرستی والے ہیکرز کا گروپ ہے۔ ایف بی آئی کے مطابق، یہ حملہ “ٹریڈر ٹریٹر” نامی گروپ نے کیا، جسے اس سے پہلے گزشتہ سال بائی بٹ ایکسچینج پر 1.5 ارب ڈالر کے حملے کا بھی ذمہ دار قرار دیا جا چکا ہے۔ بائنانس نے ہفتے کے روز کہا کہ اس نے کمپنی کے اپنے فنڈز سے چوری شدہ اثاثوں کا 90 فیصد حصہ دوبارہ پورا کر لیا ہے، اور صارفین کو اس واقعے کا مالی نقصان نہیں اٹھانا پڑے گا۔

ایف بی آئی نے کیا کہا

ایف بی آئی نے 31 اکتوبر کو جاری کردہ سائبر الرٹ میں کہا کہ شمالی کوریا 29 اکتوبر 2026 کے قریب بائنانس سے 6 ارب ڈالر سے زائد کے ورچوئل اثاثوں کی چوری کا ذمہ دار ہے۔ ایجنسی کے مطابق، ٹریڈر ٹریٹر کے ارکان کو چوری شدہ اثاثوں کو ایتھیریم میں تبدیل کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے، اور توقع ہے کہ وہ ان رقوم کو مزید دھونے کے لیے ڈی سینٹرلائزڈ فنانس (ڈی فائی) پلیٹ فارمز اور فوری تبادلے کی خدمات کا استعمال کریں گے۔ ایف بی آئی نے امریکی سیکرٹ سروس اور انٹرنل ریونیو سروس کے کرمنل انویسٹی گیشن ڈویژن کے ساتھ مل کر کرپٹو ایکسچینجز، بلاک چین تجزیہ کار کمپنیوں اور دیگر اداروں سے کہا ہے کہ وہ حملہ آوروں سے منسلک والٹ ایڈریسز سے ہونے والی لین دین کو روکیں۔

بلاک چین تجزیہ کار فرم ٹی آر ایم لیبز نے بھی اس حملے کو ٹریڈر ٹریٹر سے منسوب کیا تھا۔ اس فرم کے اندازے کے مطابق، حملہ آوروں نے تقریباً 20 منٹ کے اندر 6.36 ارب ڈالر مالیت کے اثاثے منتقل کیے، جس سے یہ کسی کرپٹو ایکسچینج پر اب تک کا سب سے بڑا حملہ بن گیا ہے۔ چین اینالسز نے بھی شمالی کوریا کے ملوث ہونے پر “اعلیٰ درجے کے اعتماد” کا اظہار کیا تھا۔

بائنانس نے 90 فیصد نقصان کیسے پورا کیا

بائنانس کے شریک چیف ایگزیکٹو رچرڈ ٹینگ نے ہفتے کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ کمپنی نے چوری شدہ اثاثوں کا 90 فیصد حصہ دوبارہ خرید کر پورا کر لیا ہے۔ ان کے بقول، “ہم نے اب چوری شدہ اثاثوں کا 90 فیصد حصہ دوبارہ پورا کر لیا ہے، اور ہم باقی 10 فیصد کو پورا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ ہمارے صارفین کو اس واقعے کا مالی اثر نہیں اٹھانا پڑے گا۔”

بائنانس نے کہا کہ اس نے نقصانات کو پورا کرنے کے لیے تقریباً 6.34 ارب ڈالر کے کمپنی فنڈز مختص کیے ہیں۔ باقی 10 فیصد حصہ ایسے ٹوکنز پر مشتمل ہے جن کی مارکیٹ میں خرید و فروخت کم ہوتی ہے، اس لیے انہیں خریدنے میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ کمپنی نے یہ بھی کہا کہ اس نے 31 اکتوبر کو رات 12 بجے (جی ایم ٹی) کے وقت اپنے پلیٹ فارم پر موجود اثاثوں کا نیا سنیپ شاٹ لیا ہے، جو اس کے پروف آف ریزروز کے عمل کا حصہ ہے۔ بائنانس کے شریک بانی یی ہی نے کہا کہ کمپنی اپنے سیکیور ایسٹ فنڈ فار یوزرز (سیفو) کا 50 فیصد حصہ ہیک کے نقصانات کو پورا کرنے کے لیے استعمال کرے گی، جبکہ باقی نصف فنڈ میں ہی رہے گا۔

حملہ کیسے ہوا اور صارفین کے لیے کیا مطلب ہے

رپورٹس کے مطابق، یہ چوری جمعرات کو چند منٹوں کے اندر ہوئی، جب بٹ کوائن اور دیگر ڈیجیٹل کرنسیوں میں 6.3 ارب ڈالر سے زائد کی رقم چوری کر لی گئی۔ شروع میں 100 ملین ڈالر سے زائد کی رقم نکالی گئی، جس کے بعد یہ سلسلہ تیزی سے بڑھا۔ بائنانس نے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر نکاسی (وڈڈرال) کو عارضی طور پر روک دیا تھا، اور کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ سیکیورٹی جانچ مکمل ہونے کے بعد یکم نومبر کو نکاسی دوبارہ شروع کرنے کا ہدف رکھتی ہے۔

اس واقعے کے بعد جمعے کو کرپٹو کرنسیوں کی قیمتوں میں کمی آئی، جبکہ بائنانس نے صارفین کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ ان کے فنڈز محفوظ ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ کرپٹو صنعت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی ایکسچینج بھی ریاستی سرپرستی والے ہیکرز کے نشانے پر ہے۔ تاہم، بائنانس کا یہ دعویٰ کہ صارفین کو نقصان نہیں ہوگا، صارفین کے اعتماد کو بحال کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

مزید تفصیل کے لیے ہماری گزشتہ خبریں بائنانس نے 6.34 ارب ڈالر کا کور فنڈ مختص کیا (https://niazitvnews.com/?p=2860) اور بٹ کوائن کی قیمت اور کرپٹو مارکیٹ (https://niazitvnews.com/?p=1220) بھی پڑھیں۔

ماخذ: رائٹرز، عرب نیوز، کوریا ہیرالڈ اور جی ایم اے نیوز، یکم نومبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *