بھارت نے پاکستان کو ایس سی او فورم کی دعوت دے دی

0

بھارت نے پاکستان کو شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے پہلے سولائزیشنل ڈائیلاگ فورم میں شرکت کی دعوت دے دی ہے۔ یہ فورم 20 سے 22 نومبر تک نئی دہلی میں ہوگا، اور پاکستان کے وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی اس دعوت میں شامل ہیں۔ اسلام آباد نے ابھی یہ طے نہیں کیا کہ اس کی نمائندگی کون کرے گا، اور نہ ہی شرکت کی حتمی تصدیق ہوئی ہے۔

دہلی فورم کیا ہے، کہاں ہوگا

ایس سی او کا یہ پہلا سولائزیشنل ڈائیلاگ فورم بھارت کی وزارت ثقافت اور وزارت خارجہ مشترکہ طور پر منعقد کر رہی ہیں، اور اس کا افتتاح وزیراعظم نریندر مودی کریں گے۔ فورم دہلی کے تاریخی پرانا قلعہ میں ہوگا، جسے 16ویں صدی کا قلعہ بتایا جاتا ہے۔ اس میں 25 سے زائد ممالک کے نمائندے شریک ہوں گے، جن میں 10 رکن ممالک کے وزرائے ثقافت کے علاوہ مبصر ممالک اور ڈائیلاگ پارٹنرز بھی شامل ہیں۔ فورم کا مقصد مشترکہ ثقافتی ورثہ، فن، ادب، روایات اور تاریخی روابط کو اجاگر کرنا اور عوام سے عوام کے رابطے مضبوط کرنا ہے۔

2023 کے بعد پہلی وزارتی دعوت کیوں اہم ہے

اگر وزیر اورنگزیب کھچی اس فورم میں شریک ہوتے ہیں تو یہ 2023 کے بعد کسی پاکستانی وزیر کا بھارت کا پہلا دورہ ہوگا، جب اس وقت کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری گوا میں ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس میں شریک ہوئے تھے۔ یہ مئی 2025 کی چار روزہ پاک بھارت کشیدگی کے بعد بھی پہلی ایسی دعوت ہوگی۔ تاہم بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ یہ دعوت کثیرالجہتی فورم کا حصہ ہے، اسے دوطرفہ تعلقات میں تبدیلی کے طور پر نہ سمجھا جائے۔ تمام 10 رکن ممالک — بھارت، پاکستان، چین، روس، ایران، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ازبکستان اور بیلاروس — کے وزرائے ثقافت کو دعوت دی گئی ہے۔

یہ تجویز کہاں سے آئی

یہ فورم وزیراعظم مودی کی تجویز پر قائم ہوا، جو انہوں نے ستمبر 2025 میں چین کے شہر تیانجن میں ایس سی او سربراہ اجلاس میں پیش کی تھی اور تنظیم نے اسے منظور کر لیا تھا۔ بھارت کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے 20 اکتوبر 2026 کو تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں ایس سی او حکومتی سربراہان کے اجلاس میں باضابطہ اعلان کیا تھا کہ بھارت سال کے آخر میں یہ فورم منعقد کرے گا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان کی وزارت خارجہ دعوت کا جائزہ لے رہی ہے اور اندرونی مشاورت کے بعد حتمی فیصلہ ہوگا، جبکہ شرکت کی سطح بھی ابھی واضح نہیں۔

پاکستان کے لیے فیصلہ کیا ہوگا

پاکستان کے سامنے سوال یہ ہے کہ وہ اس کثیرالجہتی ثقافتی فورم میں کس سطح پر شریک ہو۔ ایک طرف ایس سی او کا فریم ورک دونوں ممالک کو ایک ہی پلیٹ فارم پر لاتا رہا ہے — ستمبر 2026 میں بھارت نے اپنے ایس سی او قومی کوآرڈینیٹر کو بھی اسلام آباد بھیجا تھا — دوسری طرف دوطرفہ کشیدگی برقرار ہے۔ فورم میں ثقافتی سفارتکاری، ورثہ، تعلیم اور روایتی علم کے شعبوں میں تعاون پر بات چیت متوقع ہے، اور پاکستان کی شرکت یا عدم شرکت دونوں ہی خطے میں توجہ حاصل کریں گی۔

مزید تفصیل کے لیے پڑھیں: پاکستان کا ایران بحران پر انتباہ، سلامتی کونسل میں سفارتکاری پر زور اور ایران سے امن معاہدہ “انتہائی مشکل”۔

ماخذ: دی ہندو، این ڈی ٹی وی، انڈیا ٹی وی اور وائین، 27 تا 28 اکتوبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *