جرمنی میں نوجوانوں کے بڑے مظاہرے، 1.7 لاکھ شرکا متوقع

0

جرمنی میں ہفتہ 31 اکتوبر کو نوجوانوں کی ایک بڑی تحریک کے تحت ملک بھر میں بڑے مظاہرے ہونے جا رہے ہیں، جن میں منتظمین کے مطابق ایک لاکھ 70 ہزار سے زائد افراد کی شرکت متوقع ہے۔ نوجوانوں کی تنظیم “جن زی ریگلٹ” یعنی “جن زی سنبھال لے گی” کے زیر اہتمام یہ مظاہرے برلن، فرینکفرٹ، میونخ اور کولون سمیت 30 سے زائد شہروں میں منعقد ہو رہے ہیں۔

مظاہرین کے مطالبات کیا ہیں؟

مظاہرین کا کہنا ہے کہ حکومت نوجوان نسل کی مشکلات کو نظر انداز کر رہی ہے۔ ان کے مطالبات میں تعلیم پر زیادہ سرمایہ کاری، مہنگائی میں کمی، سماجی اخراجات میں کٹوتیوں کا خاتمہ اور لازمی فوجی سروس کی بحالی کے منصوبوں کی مخالفت شامل ہے۔ مظاہرین کا موقف ہے کہ اسکولوں اور جامعات کی حالت خراب ہے، رہائش اور روزمرہ اخراجات بڑھ رہے ہیں، جبکہ حکومت کی پالیسیاں نوجوانوں پر مزید بوجھ ڈال رہی ہیں۔

میونخ میں ریلی سے خطاب کرنے والے 18 سالہ طالب علم اسٹیو نے چانسلر فریڈرک مرز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ان کے خدشات کا جواب کٹوتیوں اور مزید بوجھ کے سوا کچھ نہیں دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک حکومت ان کی بات نہیں سنتی، وہ اجتماع کے بنیادی حق کا استعمال جاری رکھیں گے۔ برلن کی ٹیکنیکل یونیورسٹی کے طالب علم شان بیکر نے کہا کہ ان کے کیمپس کی عمارتوں کی حالت اتنی خراب ہے کہ وہ ویران عمارت لگتی ہیں، حالانکہ یہی وہ جگہ ہے جہاں انہیں روزانہ پڑھنا ہوتا ہے۔

پولیس کی تیاری اور خدشات

جرمن پولیس نے ملک بھر میں ہزاروں اہلکار تعینات کر دیے ہیں اور کئی شہروں میں دکانیں اپنی کھڑکیوں پر لکڑی کے تختے لگا رہی ہیں۔ برلن کے مہنگے شاپنگ علاقے کورفرسٹنڈیم میں کئی کاروباروں نے جلد بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ انہیں خدشہ ہے کہ انتہا پسند گروہ ان مظاہروں کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں، خاص طور پر فرانس میں حالیہ مظاہروں کے دوران لوٹ مار اور جلاؤ گھیراؤ کی تصاویر سب کے ذہنوں میں ہیں۔

ہیسے ریاست کے وزیر داخلہ رومن پوسیک نے کہا کہ فرانس کی صورتحال کو مثال نہیں بنایا جانا چاہیے، جہاں مکانات جلائے گئے، پولیس کی گاڑیوں پر حملے ہوئے اور لوٹ مار ہوئی۔ دوسری جانب منتظمین نے بار بار واضح کیا ہے کہ ان کے مظاہرے پرامن ہوں گے اور انتہا پسندی، نسل پرستی اور نفرت انگیز تقاریر کی ان کی تحریک میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ کے مطابق انتہا پسند گروہوں کے مظاہروں میں شامل ہونے کی کوششوں کی اطلاعات ہیں، تاہم پولیس نے کہا ہے کہ منظم انتہا پسند قبضے کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا۔

یورپ میں نوجوانوں کی لہر

جرمنی کے یہ مظاہرے یورپ بھر میں نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کی لہر کا حصہ ہیں۔ فرانس میں 31 اکتوبر کو ہی بڑے مظاہروں کے لیے 70 ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ اٹلی میں بھی نوجوان مظاہرے کر چکے ہیں۔ سربیا میں طلبہ کی تحریک نے انتخابات میں طویل عرصے سے اقتدار میں رہنے والے رہنما کو شکست دینے میں مدد کی۔

جرمنی کو اس وقت معاشی بحالی، پنشن اور عوامی خدمات پر بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، کیونکہ عمر رسیدہ آبادی ریٹائر ہو رہی ہے اور کام کرنے والی آبادی سکڑ رہی ہے۔ اس پس منظر میں نوجوانوں کا کہنا ہے کہ ان کی نسل کو تعلیم، رہائش اور روزگار کے شعبوں میں زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔ تاہم تحریک کی قیادت پر بھی سوالات اٹھے ہیں، اور جرمنی کی قومی طلبہ تنظیم بی ایس کے نے اس تحریک سے فاصلہ اختیار کرتے ہوئے 20 نومبر کو اپنے الگ احتجاج کا اعلان کیا ہے۔

مزید تفصیل کے لیے یہ بھی پڑھیں: فرانس میں آج بڑے مظاہرے، 70 ہزار پولیس اہلکار تعینات اور کینیڈا یورپی یونین اتحاد، گہری شراکت داری کا اعلان۔

ذرائع: اسٹریٹس ٹائمز (رائٹرز)، ملے میل اور ترکیے ٹوڈے — 31 اکتوبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *