حافظ آباد بس حادثہ: 5 افراد جاں بحق، درجنوں زخمی

0

حافظ آباد بس حادثہ: 5 افراد جاں بحق، درجنوں زخمی

پنجاب کے ضلع حافظ آباد میں جمعرات 29 اکتوبر 2026 کی صبح ایک مسافر بس نالے میں جا گری، جس کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ حادثہ تحصیل پنڈی بھٹیاں کے علاقے فتحکے کے قریب پیش آیا۔

ریسکیو 1122 کے مطابق بس رائیونڈ سے چنیوٹ جا رہی تھی کہ ڈرائیور کے قابو کھونے پر وہ سڑک سے اتر کر نالے میں جا گری۔ حادثے کی اطلاع صبح 4 بج کر 20 منٹ پر موصول ہوئی، جس کے بعد ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں۔

ریسکیو آپریشن کیسے ہوا؟

ریسکیو حکام کے مطابق حادثے کے بعد امدادی ٹیموں نے زخمیوں کو موقع پر ابتدائی طبی امداد دی اور پھر تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال پنڈی بھٹیاں منتقل کیا۔ بس کے نیچے دبے ہوئے مسافروں کو نکالنے کے لیے مقامی انتظامیہ کی مدد سے کرین کا استعمال کیا گیا، جس کے بعد 5 لاشیں برآمد ہوئیں۔

ریسکیو آپریشن میں 5 گاڑیاں اور متعدد اہلکاروں نے حصہ لیا۔ ریسکیو حکام نے بعد میں آپریشن مکمل ہونے کی تصدیق کی۔ خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ مزید مسافر ملبے تلے دبے ہو سکتے ہیں، اس لیے تلاش کا عمل جاری رکھا گیا۔

جاں بحق افراد کی شناخت

ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق جاں بحق ہونے والوں کی شناخت 18 سالہ احمد ولد عبدالرؤف، 20 سالہ عادل ولد ارشد، 26 سالہ مذکر مبین ولد نثار احمد، 27 سالہ ارسلان فاروق ولد فاروق اور 28 سالہ محمد علی ولد صاحب خان کے طور پر ہوئی ہے۔ تمام لاشیں تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال پنڈی بھٹیاں منتقل کر دی گئیں۔

زخمیوں کی تعداد میں اختلاف کیوں؟

زخمیوں کی تعداد کے بارے میں رپورٹس میں فرق سامنے آیا ہے۔ ڈان اور دی نیشن کی ابتدائی رپورٹس میں 27 زخمیوں کا ذکر کیا گیا، جبکہ عرب نیوز کی تازہ رپورٹ میں ضلعی ریسکیو کنٹرول روم کے حوالے سے 13 زخمیوں کا اعداد بتایا گیا ہے۔ اسی طرح ایک اور رپورٹ میں 40 زخمیوں کا دعویٰ بھی سامنے آیا۔ اس لیے زخمیوں کی حتمی تعداد کے بارے میں ریسکیو حکام کی حتمی تصدیق کا انتظار کرنا ہوگا، تاہم 5 ہلاکتوں پر تمام ذرائع متفق ہیں۔

حادثے کی وجہ کیا بتائی گئی؟

حادثے کی وجہ کے بارے میں بھی دو مختلف روایتیں سامنے آئی ہیں۔ ڈان اور دی نیشن کی رپورٹس کے مطابق ریسکیو حکام نے تیز رفتاری کو حادثے کی وجہ قرار دیا، جس سے ڈرائیور گاڑی پر قابو نہ رکھ سکا۔ دوسری جانب عرب نیوز کی تازہ رپورٹ میں ضلعی ریسکیو کنٹرول روم کے حوالے سے ڈرائیور کی اونگھ کو ممکنہ وجہ بتایا گیا ہے۔ ٹریبیون کی رپورٹ میں بھی عینی شاہدین کے حوالے سے ڈرائیور کے یو ٹرن لیتے ہوئے اونگھ جانے کا ذکر کیا گیا ہے۔ حتمی وجہ کا تعین تحقیقات کے بعد ہی ہو سکے گا۔

پاکستان میں سڑک حادثات کا بڑھتا مسئلہ

یہ حادثہ پاکستان میں سڑک حادثات کے تسلسل کی ایک اور کڑی ہے۔ صرف گزشتہ ہفتے کے دوران ہی کئی المناک حادثات پیش آ چکے ہیں۔ 21 اکتوبر کو راجن پور کے علاقے روجھان میں ایک بس کے ڈیوائیڈر سے ٹکرانے سے 10 افراد جاں بحق اور 44 زخمی ہوئے تھے، جبکہ اس سے چند روز قبل اوتھل کے قریب زیرو پوائنٹ پر منی بس اور کوچ کے تصادم میں 12 مسافر جاں بحق ہوئے تھے۔

عالمی ادارہ صحت کی 2023 کی عالمی روڈ سیفٹی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 2021 میں سڑک حادثات میں 27 ہزار 568 اموات ہوئی تھیں، جو اس مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تیز رفتاری، ڈرائیور کی تھکاوٹ اور سڑکوں کی حالت حادثات کی بڑی وجوہات ہیں، اور ان پر قابو پانے کے لیے سخت نفاذ اور آگاہی مہمات کی ضرورت ہے۔

ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے حادثے کی تحقیقات جاری ہیں، اور زخمیوں کے علاج کے لیے اسپتال انتظامیہ کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

مزید متعلقہ خبریں: سرگودھا پٹواری کو 31 سال قید اور ساہیوال پانی چوری پر 294 مقدمات۔

ذرائع: ڈان، دی نیشن، ٹریبیون، عرب نیوز۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *