خامنہ ای: نئی امریکی جارحیت کا جواب بڑا ہوگا
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے بدھ 4 نومبر کو کہا ہے کہ واشنگٹن کی تہران کے خلاف دشمنی کسی پارٹی کی تبدیلی یا امریکہ کے سامنے کسی رعایت سے ختم نہیں ہوگی، اور جو لوگ ایسا سمجھتے ہیں وہ سخت غلطی پر ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کسی نئی امریکی جارحیت کا جواب کہیں بڑے پیمانے پر دیا جائے گا۔ یہ بیان امریکہ میں مڈٹرم انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست کے بعد سامنے آیا ہے۔
بیان کا پس منظر
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق خامنہ ای نے کہا کہ ایران نے خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے اور آبنائے ہرمز کے انتظام کے ذریعے امریکی بالادستی کے خلاف مہم چلائی ہے۔ ان کے بقول امریکہ اپنی بالادستی کا خاتمہ دور سمجھتا ہے، جبکہ ایران اسے قریب دیکھتا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ اور قطر کی ثالثی میں مذاکرات کی خبریں عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔
مڈٹرم نتائج سے تعلق
امریکی مڈٹرم انتخابات میں ڈیموکریٹس نے ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں کامیابی حاصل کی ہے، جسے صدر ٹرمپ کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ نے خود اعتراف کیا ہے کہ ایران جنگ نے ریپبلکنز کو نقصان پہنچایا، اور ڈیموکریٹس نے دونوں ایوان جیت لیے۔ خامنہ ای کا تازہ بیان اسی سیاسی پس منظر میں سامنے آیا ہے، اور اس میں انہوں نے واضح کیا کہ واشنگٹن میں اقتدار کی تبدیلی تہران کے لیے پالیسی میں تبدیلی کی ضمانت نہیں ہے۔
خطے کے لیے اس کا مطلب کیا ہے
آبنائے ہرمز دنیا کی تیل کی ترسیل کا ایک اہم ترین راستہ ہے، اور اس پر کسی بھی کشیدگی کے عالمی توانائی منڈی پر فوری اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں خلیجی پانیوں میں کشیدگی، بحری ٹریفک میں کمی اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں، لیکن دونوں جانب سے سخت بیانات اس عمل کو مشکل بنا رہے ہیں۔
آگے کیا دیکھنا ہے
اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ واشنگٹن اس بیان کا کیا جواب دیتا ہے، اور قطر کی ثالثی میں جاری مذاکرات کس سمت جاتے ہیں۔ اگر بات چیت آگے بڑھتی ہے تو کشیدگی میں کمی آ سکتی ہے، لیکن اگر بیان بازی تیز ہوئی تو خطے میں عدم استحکام بڑھنے کا خدشہ ہے۔ پاکستان سمیت خطے کے ممالک کے لیے یہ صورتحال اس لیے بھی اہم ہے کہ توانائی کی قیمتیں اور علاقائی سلامتی براہ راست اس سے جڑی ہوئی ہیں۔
یہ خبر رائٹرز کی 4 نومبر 2026 کی رپورٹ پر مبنی ہے، جس میں خامنہ ای کے بیان کو ان کے اپنے الفاظ میں پیش کیا گیا ہے۔
ماخذ: رائٹرز، 4 نومبر 2026۔