رابعہ کلثوم کا بالی ووڈ پر طنز: پاکستانی مرد ایسے نہیں
پاکستانی اداکارہ رابعہ کلثوم نے بالی ووڈ میں پاکستانی مردوں کی دقیانوسی تصویر کشی پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری میں بھارتی فلم سازوں سے کہا ہے کہ پاکستانی مرد کو بار بار ایک ہی انداز میں دکھانا بند کیا جائے، اور اس کی جگہ ڈرامہ در نجات کے کردار ابو بکر کو مثال بنایا جائے۔ رابعہ کی یہ پوسٹ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے اور اس پر زبردست بحث چھڑ گئی ہے۔
رابعہ کلثوم نے بالی ووڈ سے کیا کہا؟
24 نیوز کے مطابق رابعہ کلثوم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری میں بالی ووڈ کے فلم سازوں کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ وہ پاکستانی مردوں کو بار بار تعویذ، کاجل، بکھرے بالوں اور سینے سے کھلے کرتے کے ساتھ دکھانے سے تنگ آ چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تصویر کشی حقیقت سے بہت دور ہے اور اس سے پاکستانی مردوں کی ایک غلط اور محدود شبیہ بنتی ہے۔
رابعہ نے لکھا کہ اگلی بار جب بالی ووڈ کسی ایجنڈے پر مبنی فلم میں پاکستانی دکھانے کی کوشش کرے تو ابو بکر کو مثال بنائے۔ ان کے اس بیان نے اس بحث کو پھر زندہ کر دیا ہے کہ سینما کس طرح سرحد پار لوگوں کے بارے میں تاثرات بناتا ہے اور دقیانوسی کردار کس طرح پوری قوم کی شبیہ کو متاثر کرتے ہیں۔
ابو بکر کا کردار کیوں مثال بنا؟
ابو بکر ڈرامہ در نجات کا کردار ہے، جسے شہریار منور نے ادا کیا ہے۔ ناظرین کے مطابق ابو بکر ایک نرم مزاج، صابر اور باعزت شخصیت ہے، جو اپنے رویے سے لوگوں کا دل جیت لیتا ہے۔ اس کردار نے آن لائن اس بحث کو جنم دیا ہے کہ مردانگی کا مطلب سختی یا شور شرابہ نہیں، بلکہ مہربانی اور جذباتی پختگی بھی ہو سکتی ہے۔
ڈان کے ڈرامہ جائزے کے مطابق در نجات اے آر وائی ڈیجیٹل پر جمعہ اور ہفتہ کی رات آٹھ بجے نشر ہوتا ہے اور اس میں شہریار منور اور در فشاں سلیم کی جوڑی کو ناظرین بے حد پسند کر رہے ہیں۔ ابو بکر اور زریاب کی کہانی نے ڈرامے کو اس وقت کے سب سے زیادہ زیر بحث ڈراموں میں شامل کر دیا ہے، اور رابعہ کے بیان کے بعد اس کردار کا ذکر ایک بار پھر سوشل میڈیا پر چھا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
رابعہ کلثوم کی پوسٹ کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے اس موضوع پر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ کئی صارفین نے ان سے اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی فلموں میں پاکستانی کرداروں کو اکثر ایک ہی سانچے میں ڈھال دیا جاتا ہے، جبکہ حقیقی زندگی میں پاکستانی مرد مختلف مزاج، پیشوں اور شخصیتوں کے حامل ہوتے ہیں۔ دوسری جانب کچھ صارفین نے اسے محض تفریحی بحث قرار دیا اور کہا کہ فلموں کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے۔
ماہرین کے مطابق یہ بحث اس لیے بھی اہم ہے کہ فلمیں اور ڈرامے نوجوان نسل کے ذہنوں پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ جب کسی قوم کو بار بار ایک ہی انداز میں دکھایا جائے تو ناظرین اسے ہی حقیقت سمجھنے لگتے ہیں۔ اسی لیے رابعہ کا مطالبہ ہے کہ کرداروں کو گہرائی اور صداقت کے ساتھ لکھا جائے تاکہ وہ حقیقی انسان لگیں، نہ کہ محض ایک دقیانوسی خاکہ۔
شوبز کی دنیا میں اس سے قبل کومل عزیز خان نے شوبز کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہہ دیا تھا اور لِسا کے نئے گانے نے ریلیز پر دھوم مچا دی تھی۔
ماخذ: 24 نیوز کی 25 اکتوبر 2026 کی رپورٹ اور ڈان کا ڈرامہ جائزہ۔