سلامتی کونسل میں پاکستان کا عالمی شپنگ تحفظ کا مطالبہ

0

پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں خبردار کیا ہے کہ بڑھتے ہوئے عالمی تنازعات کو عالمی بحری تجارت کو مفلوج نہیں کرنے دیا جانا چاہیے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ عالمی شپنگ کو “تنازعات اور کشیدگی کا شکار” نہیں بننے دیا جا سکتا، اور بین الاقوامی آبی راستوں کو عالمی معیشت کا مضبوط ذریعہ بنے رہنا چاہیے۔

سلامتی کونسل میں پاکستان کا موقف

اقوام متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطحی مباحثے میں یہ موقف پیش کیا۔ یہ مباحثہ یونان کی زیر صدارت ہوا، جو اکتوبر کے مہینے میں 15 رکنی کونسل کی صدارت کر رہا ہے۔ مباحثے کا موضوع “ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور بحری سلامتی: امن و سلامتی پر اثرات” تھا۔

سفیر جدون نے کہا کہ علاقائی چوک پوائنٹس پر کشیدگی تیزی سے توانائی اور خوراک کے بحران کو جنم دے سکتی ہے۔ انہوں نے محفوظ گزرگاہ، اہم بحری بنیادی ڈھانچے کے تحفظ اور ترقی پذیر معیشتوں کو جغرافیائی سیاسی عدم استحکام کے اثرات سے بچانے کے لیے قانون پر مبنی اور باہمی تعاون کے فریم ورک کا مطالبہ کیا۔

باب المندب پر حوثی حملوں کی مذمت

پاکستانی مندوب نے آبنائے باب المندب کو ہتھیار بنانے کی حوثی ملیشیا کی کوششوں کی سخت مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی جہازوں اور آبنائے سے گزرنے والے ملاحوں پر حملے بحری سلامتی کو نقصان پہنچاتے ہیں اور علاقائی ممالک کے امن و ترقی کو خطرے میں ڈالتے ہیں، خاص طور پر سعودی عرب کو، جسے حوثیوں کی “کھلی جارحیت” کا سامنا ہے۔

عرب نیوز کے مطابق پاکستان نے سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ بھی کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں بحیرہ احمر اور باب المندب میں تجارتی جہازرانی پر حوثی حملوں میں شدت آئی ہے، جس سے وسیع تر علاقائی تنازعے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی قانون کا کردار

سفیر جدون نے کہا کہ آج کا چیلنج یہ ہے کہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور مصنوعی ذہانت کو بحری سلامتی مضبوط بنانے کے لیے استعمال کیا جائے اور ان کے غلط استعمال کے راستے بند کیے جائیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے سمندری قانون کے کنونشن (انکلوس) کو بین الاقوامی بحری نظم کی بنیاد قرار دیا اور کہا کہ اس کے تحت قائم قانونی نظام کا تحفظ ضروری ہے۔

مباحثے کا آغاز کرتے ہوئے سیکریٹری جنرل کے چیف آف کابینہ ارل کورٹنے ریٹرے نے کہا کہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز بحری سلامتی کو نئے خطرات اور نئے مواقع دونوں دے رہی ہیں۔ پاکستان کا یہ موقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز اور باب المندب میں جہازرانی پر حملوں نے اہم بحری راستوں کی کمزوری کو نمایاں کر دیا ہے۔

آبنائے ہرمز میں حالیہ کشیدگی کے بارے میں ہماری خبریں یہاں پڑھیں: ایران نے آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان کر دیا (https://niazitvnews.com/?p=2676) اور ہرمز میں ٹینکر پر نامعلوم میزائل حملہ، عملہ محفوظ (https://niazitvnews.com/?p=2674)۔

ماخذ: اردو پوائنٹ (اے پی پی) اور عرب نیوز کی 30 اکتوبر 2026 کی رپورٹس۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *