شرح سود 12 فیصد پر کاروباری طبقہ تقسیم، ایف پی سی سی آئی ناراض

0

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے شرح سود 50 بیسز پوائنٹس بڑھا کر 12 فیصد کرنے پر کاروباری طبقہ تقسیم ہو گیا ہے۔ مقامی کاروباری تنظیموں نے فیصلے پر شدید تنقید کی ہے، جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی تنظیم نے اسے موجودہ حالات میں درست قدم قرار دیا ہے۔ اسٹیٹ بینک نے یہ فیصلہ 26 اکتوبر کو مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں کیا تھا، جس کے بعد کاروباری حلقوں کے ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔

ایف پی سی سی آئی کا شدید ردعمل

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر عاطف اکرام شیخ نے شرح سود میں اضافے پر تشویش اور مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق 12 فیصد کی شرح سود علاقائی معیشتوں کے مقابلے میں غیر مسابقتی ہے اور یہ فیصلہ معاشی استحکام کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کاروباروں کو پہلے ہی توانائی کے زیادہ نرخوں، بھاری ٹیکسوں اور مہنگے خام مال کا سامنا ہے، ایسے میں مہنگا قرض صنعتی توسیع کو روکے گا اور برآمدات کی مسابقت کو کمزور کرے گا۔

ایف پی سی سی آئی نے حکومت اور اسٹیٹ بینک سے مطالبہ کیا ہے کہ شرح سود کو سنگل ڈیجٹ پر لایا جائے تاکہ چھوٹے اور درمیانے کاروبار، تاجر اور بڑے مینوفیکچررز سرمایہ کاری کر سکیں۔ صدر ایف پی سی سی آئی کے بقول مہنگائی کی اصل وجہ رسد کی رکاوٹیں اور توانائی کی قیمتیں ہیں، نہ کہ ضرورت سے زیادہ طلب، اس لیے شرح سود بڑھانا مسئلے کا حل نہیں ہے۔

راولپنڈی چیمبر بھی ناراض

راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آر سی سی آئی) کے صدر نوشیروان خلیل خان نے بھی اسٹیٹ بینک کے فیصلے کی مذمت کی ہے۔ ڈان میں 27 اکتوبر کو شائع ہونے والی خبر کے مطابق ان کا کہنا ہے کہ شرح سود میں اضافہ کاروباری اور صنعتی سرگرمیوں کو مزید سست کر سکتا ہے، سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کر سکتا ہے اور ملازمتوں کے ضیاع کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔ ان کے مطابق چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کے لیے توسیع، ورکنگ کیپٹل اور ٹیکنالوجی کی اپ گریڈیشن کے لیے قرض لینا مزید مشکل ہو جائے گا۔

غیر ملکی سرمایہ کاروں کا مختلف موقف

دوسری جانب اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) نے شرح سود میں اضافے کو درست قدم قرار دیا ہے۔ او آئی سی سی آئی کے سیکرٹری جنرل عبدالعلیم خان کے مطابق توانائی کی بلند قیمتوں اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث مہنگائی کے خطرے کے پیش نظر اسٹیٹ بینک نے محتاط انداز اختیار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک شرح سود میں اس سے زیادہ اضافہ بھی کر سکتا تھا، لیکن اس نے 50 بیسز پوائنٹس کے محتاط اضافے کو ترجیح دی۔

ٹیکسٹائل برآمد کنندگان کی تشویش

پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے بھی شرح سود میں اضافے پر تنقید کی ہے۔ ایسوسی ایشن کے چیئرمین ریحان نسیم بھراڑہ کے مطابق مہنگا ورکنگ کیپٹل برآمد کنندگان کی مسابقت کو کمزور کرے گا، کیونکہ بھارت، ویتنام اور چین میں کاروباروں کو کہیں سستا قرض ملتا ہے۔ ان کے مطابق بھارت میں صنعتی قرضوں کی شرح تقریباً 9.25 سے 9.6 فیصد ہے، جبکہ چین میں عام کاروباری قرضوں کی اوسط شرح صرف 3.04 فیصد ہے۔

اسٹیٹ بینک نے فیصلہ کیوں کیا

اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے شرح سود بڑھانے کی وجہ مہنگائی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو قرار دیا تھا۔ ستمبر میں مجموعی مہنگائی 10.3 فیصد سالانہ رہی، جبکہ اگست میں یہ 11.1 فیصد تھی۔ بنیادی مہنگائی تقریباً 8.4 فیصد پر برقرار ہے اور مہنگائی اب سات مسلسل مہینوں سے اسٹیٹ بینک کے 5 سے 7 فیصد کے ہدف سے اوپر ہے۔ کمیٹی نے خلیجی تنازعے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافے، توانائی کے نرخوں میں ممکنہ ردوبدل اور گندم کی قیمتوں کو خطرات میں شامل کیا تھا۔ یہ رواں سال اسٹیٹ بینک کا دوسرا اضافہ ہے؛ اس سے قبل اپریل میں 100 بیسز پوائنٹس اضافے سے شرح 11.5 فیصد ہوئی تھی۔

مزید پڑھیں: شرح سود 12 فیصد: اسٹیٹ بینک نے 50 بیسز پوائنٹس اضافہ کر دیا اور شرح سود آج: اسٹیٹ بینک کا بڑا فیصلہ متوقع۔

ماخذ: ڈان، دی نیوز، ٹریبیون — 27 اکتوبر 2026

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *