شمالی کوریا نے 10 بیلسٹک میزائل داغ دیے

0

شمالی کوریا نے جمعرات 29 اکتوبر 2026 کو اپنے مشرقی ساحل سے تقریباً 10 مختصر فاصلے کے بیلسٹک میزائل مشرقی سمندر کی طرف داغ دیے۔ جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے مطابق میزائل دوپہر تقریباً 12 بج کر 30 منٹ پر وانسان کے علاقے سے فائر کیے گئے اور تقریباً 250 کلومیٹر تک پرواز کی۔ یہ 12 اکتوبر کے بعد شمالی کوریا کا پہلا بیلسٹک میزائل تجربہ ہے، یعنی 17 دن میں پہلی بار ایسا اقدام سامنے آیا ہے۔

رپورٹس میں میزائلوں کی تعداد کے بارے میں معمولی فرق سامنے آیا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز نے جنوبی کوریا کے فوجی حکام کے حوالے سے تقریباً 10 میزائلوں کی خبر دی، جب کہ بعض دیگر رپورٹس میں 10 سے زائد یا تقریباً ایک درجن میزائلوں کا ذکر ہے۔ اس فرق کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ فائر کیے گئے میزائلوں کی تعداد 10 کے لگ بھگ تھی، اور حتمی تعداد کا تعین جنوبی کوریا اور امریکا کے مشترکہ تجزیے کے بعد ہوگا۔

جاپان اور جنوبی کوریا کا ردعمل

جاپان کی وزارت دفاع نے بھی اس لانچ کی تصدیق کی اور کہا کہ جس چیز کا پتہ چلا ہے وہ بیلسٹک میزائل معلوم ہوتی ہے۔ جاپانی حکام کے مطابق میزائل جاپان کے خصوصی اقتصادی زون سے باہر گرے۔ جاپان کے کوسٹ گارڈ نے بھی پہلے کہا تھا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میزائل پہلے ہی سمندر میں گر چکا ہے، اور بحری جہازوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

جنوبی کوریا کی فوج نے کہا ہے کہ اس نے نگرانی مزید سخت کر دی ہے اور کسی بھی مزید لانچ کے امکان کے پیش نظر تیاری برقرار رکھی ہوئی ہے۔ سیول کے مطابق جنوبی کوریا اور امریکا نے لانچ کی تیاری کے مرحلے سے ہی اس پر نظر رکھی اور فائر ہوتے ہی اس کا سراغ لگا لیا۔ جنوبی کوریا کی قومی سلامتی کے دفتر نے ان لانچوں کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

سرحدی کشیدگی کا پس منظر

یہ لانچ ایسے وقت میں ہوا ہے جب دونوں کوریا کے درمیان سرحدی کشیدگی بڑھی ہوئی ہے۔ گزشتہ ماہ سرحد پر بارودی سرنگ کے دھماکے میں تین جنوبی کوریائی فوجی زخمی ہوئے تھے۔ سیول اور اقوام متحدہ کی مشترکہ تحقیقات کے مطابق یہ بارودی سرنگیں ایک سال سے زیادہ عرصہ قبل شمالی کوریا نے نصب کی تھیں، تاہم پیانگ یانگ اس الزام کی تردید کرتا رہا ہے۔

جنوبی کوریا نے ایک ہفتے سے بھی کم عرصہ قبل سرحدی کشیدگی پر بات چیت کی تجویز دی تھی۔ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کی بہن کم یو جونگ نے معافی کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے جنوبی کوریا کی پیشکش پر سخت تنقید کی تھی۔ اس پس منظر میں تازہ میزائل تجربے کو ماہرین طاقت کے مظاہرے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

اس سال کے تجربات

شمالی کوریا نے رواں سال 10 سے زیادہ مواقع پر میزائل تجربات کیے ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں اس نے ایک نئے درست نشانے والے ٹارپیڈو نظام اور درمیانی فاصلے کے ہائپرسونک میزائل کے تجربات کا بھی دعویٰ کیا تھا، جن کے بارے میں کہا گیا تھا کہ ان میں مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے۔ یہ دعوے شمالی کوریا کی جانب سے کیے گئے ہیں اور آزاد ذرائع سے ان کی مکمل تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیانگ یانگ سے رابطوں کی حالیہ کوششوں کے بعد بھی خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔ سیول کے اتحادی حلقوں میں یہ تشویش بھی پائی جاتی ہے کہ واشنگٹن اور پیانگ یانگ کے درمیان براہ راست بات چیت میں جنوبی کوریا کو نظرانداز کیا جا سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: ایران نے قطر کی امن تجاویز مسترد کر دیں اور ٹرمپ نے وینس کے ایران رابطے کی تردید کر دی۔

ماخذ: رائٹرز، اے ایف پی، جاپان کی وزارت دفاع اور جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف، 29 اکتوبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *